Saturday, 3 September 2016

شیر بنگال مولوی ابوالقاسم فضل الحق - - سیاسی زندگی Sher - e - Bengal Maulvi A.K Fazl ul Haq - - Political History



شیر بنگال مولوی ابوالقاسم فضل الحق

قرارداد لاھور  کے پیش کنندہ مولوی  اے ۔ کے  فضل  الحق  1873  کو  مشرقی  پاکستان  میں پیدا ہوئے ۔ آپ ایک اعلیٰ درجے کے قانون دان اور وکیل تھے ۔ 

 آپ نے  اپنی  سیاسی  زندگی میں  کئی  سیاسی  جماعتوں  اور سیاسی  اتحادوں  میں وقت گزارا ۔ قرارداد لاھور  کی  منظوری  کے  ایک  سال  بعد آپ  کو آل  انڈیا مسلم  لیگ  سے  نکال دیا  گیا   ۔ قیام پاکستان  سے  پہلے اور بعد  میں  آپ  کئی اہم  عہدوں  پر فائز  رہے ۔   آپ نے  1962 میں  وفات  پائی ۔ مولوی فضل الحق  کو ان کی جرات اور  بے باکی کی وجہ سے  شیر بنگال  کے  لقب  سے  یاد  کیا جاتا  ہے ۔


شیربنگال مشرقی بنگال کے ایک چھوٹے سے گاؤں  میں پیدا ہوئے ۔ 


شیر بنگال کی سیاسی زندگی 

1906 میں  مسلم لیگ کے قیام میں  آپ  شریک  تھے ۔ مسلم لیگ کے باقاعدہ قیام سے پیشتر اس کے لیے آئین اور منشور کی تیاری کے لیے جو چار رکنی کمیٹی بنائی گئی تھی‘ ابوالقاسم فضل الحق اس کمیٹی میں شامل تھے۔ آپ نے کچھ عرصہ سرکاری ملازمت بھی لکن جلد ہی مستعفی ہوکر وکالت شروع کی ۔ 1913 میں  آپ  بنگال قانون ساز  اسمبلی کے  رکن بنے ۔ (اس کے  بعد  آپ 1947 تک مسلسل بنگال کونسل سے وابستہ رہے ، صرف 1934 تا 1936 آپ بنگال کونسل کے رکن نہیں تھے جب آپ مرکزی  قانون ساز اسمبلی کے رکن  بنے رہے )۔

 قائداعظم کی  طرح آپ  بھی کئی سالوں تک مسلم لیگ  اور  کانگریس  کے  نہ صرف رکن  بلکہ بہ یک وقت دونوں جماعتوں کے عہدوں پر بھی فائز رہے ۔   1918 میں مسلم لیگ کے  سالانہ اجلاس  کی صدارت  آپ  نی کی ۔  1916 تا 1918 آپ کانگریس  پارٹی کے  جنرل  سیکریٹری رہے ۔ آپ  نے  دھلی میں ہونے  والے  پہلے  آل  انڈیا خلافت  کانفرنس کی  صدارت  بھی  کی ۔ 1920 میں آپ نے تحریک  ہجرت  کی  مخالفت  پر  کانگریس پارٹی  سے  راستے  جدا  کردئے ۔ 

1924 میں  آپ  بنگال  قانون  ساز  ادارے  کے رکن  اور  عرصہ چھ ماہ کے لیے تعلیم  کے  وزیر  بنے ۔ 1929 میں  آپ  نے    Bengal Praja Party  قائم کی جو بعد میں ایک مکمل سیاسی پارٹی  Nikhil Banga Praja Samiti   کی  شکل  میں  ابھر  کر سامنے  آئی  ۔ آپ کی  پارٹیوں  کا  مقصد  بنگال  کے  کسانوں  اور  مزارعین  کی  فلاح  کے  لیے  کام کرنا  تھا ۔  1935 میں آپ  کلکتہ کے پہلے مسلمان مئیر منتخب  ہوئے ۔ بحیثیت مئیر  کے آپ  نے  کسانوں  کے  حقوق  کے لیے  کام  کیا ۔ 

مولوی فضل الحق نے 1930ء سے 1932ء تک لندن میں منعقد ہونے والی تینوں گول میز کانفرنسوں میں بھی شرکت کی۔

 1936 میں  شیر بنگال نے  اپنی پارٹی کا   نام  کرشک پراجا پارٹی  ( Krishak Praja Party  -- K.P.P )   رکھ  دیا ۔  قائد اعظم  نے  آپ کو مسلم لیگ  کے  مرکزی پارلیمانی بورڈ کے  لیے  نامزد کیا ، لیکن  آپ نے  اپنی سیاسی پارٹی کو مسلم لیگ میں  ضم کرنے  سے  انکار کردیا ،  جس  سے مسلم لیگ کے  ساتھ آپ  کا سیاسی  اتحاد ختم  ہوا ۔ 

متحدہ  بنگال  کے  پہلے  وزریراعلیٰ

1937 کے صوبائی   انتخابات  میں  آپ  نے مسلم لیگ  کے  امیدوار خواجہ  ناظم الدین  کے خلاف  کامیابی  حاصل  کی ۔ آپ کی  پارٹی  نے  بنگال اسمبلی کے  انتخابات میں  کانگریس اور مسلم لیگ کے بعد تیسری پوزیشن پر رہتے  ہوئے   35 نشتیں  جیتیں جبکہ  مسلم  لیگ  نے  40  نشتیں  حاصل  کیں ۔ مسلم  لیگ کے  ساتھ  خراب  تعلقات کے  باوجود  دونوں  پارٹیوں  نے  اتحاد  کیا  اور یوریپین ، شیڈول کاسٹ  ہندو  اور آزاد  اراکین  کی  مدد  سے  آپ بنگال  کے  وزیراعلیٰ  بنے ۔ کچھہ  عرصہ بعد اپنی ہی پارٹی کے  اراکین  آپ کے خلاف ہوتے رہے اور یوں آپ کی حکومت مسلم لیگ کی مرہون منت بنتی رہی ۔   اس دوران اپنی حکومت کو بچانے کی خاطر آپ مسلم لیگ کے بہت قریب ہوئے ۔ آپ مسلم لیگ کے ورکنگ کمیٹی کے رکن بن گئے ۔ 

 آپ  نے  1940 میں  قرارداد  لاھور  پیش کی ۔ قرارداد لاھور  کی حمایت پر  آپ  کے  لیے  بنگال میں  فرقہ ورانہ مسائل پیدا ہوئے ۔

تفصیل کے لیے پڑھئے ۔ 

 دوسری جنگ عظیم کے  دوران 1941  میں وائسرائے ہند نےبحیثیت وزیراعلیٰ بنگال  آپ  کو  دفاع کے  لیے  قائم  کونسل  کا  رکن نامزد کیا ۔ قائداعظم  نے انگریزوں پر  دباؤ  ڈالنے  کے  لیے  آپ  پر کونسل سے  مستعفی  ہونے  کے  لیے  دباؤ ڈالا ۔ آپ  نے قائداعظم  کے  حکم کو  تسلیم کیا  اور دفاع  کونسل  سے مستعفی  ہوئے  لیکن احتجاجی طور  سے  مسلم ورکنگ  کمیٹی اور  مسلم  لیگ  دونوں  سے بھی  استعفیٰ دے دیا ۔  جواب میں  مسلم لیگ کے صوبائی  وزراء  نے  آپ  کی  کابینہ  سے  استعفیٰ دیا ۔ 

 آپ کی حکومت دسمبر 1941 میں  ختم ہو کر پھر قائم ہونے  میں  کامیاب ہوئی ۔ 1943  میں  آپ  کی  حکومت ایک بار  پھر   ختم ہوئی  اور مسلم لیگ  کے خواجہ ناظم  الدین  وزیراعلیٰ بنے ۔ آپ کی حکومت  1937  تا  1943 کو دو  ادوار میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔ پہلا دور 1937 تا 1941 اور دوسرا 1941 تا 1943 شمار ہوتا ہے ۔ 


1945  کے  انتخابات میں  آپ  کی  پارٹی  نے  کوئی  خاطر  خواہ  کامیابی حاصل  نہیں کی اگرچہ  آپ  خود  دو  نشستوں  سے  کامیاب ہوئے ۔ ان انتخابات میں مسلم لیگ نے کُل 117 میں سے 110 نشتیں حاصل کیں ۔ ستمبر 1946 میں آپ ایک بار پھر مسلم لیگ میں شامل ہوئے ۔ 

قیام پاکستان  کے  بعد

آزادی کے بعد 1947 سے 1952 تک آپ مشرقی پاکستان کے ایڈوکیٹ جنرل رہے ۔  1953 میں آپ نے ایک اور سیاسی پارٹی  'Sramik-Krishak Dal'  قائم کی  ۔ 1954  کے انتخابات میں  شیر بنگال کے  زیر سرکردگی  چار سیاسی جماعتوں پر  مشتمل اتحاد یونائیٹڈ فرنٹ  نے  مسلم لیگ  کے  خلاف  واضح  اور بڑی  کامیابی حاصل  کی اور آپ بنگال کے وزیراعلیٰ منتخب  ہوئے  ۔ 

سیاسی رہنماؤں  کے  ہمراہ

آپ  نے  بنگالی  زبان  کو قومی  زبان  کا درجہ  دینے  اور صوبائی  حقوق  کے حصول کے لیے  جدوجہد  کی ۔ آپ  نے مشرقی پاکستان  میں  بحری فوج کا ہیڈکوارٹر  قائم  کرنے  کی  تجویز  بھی  پیش کی ۔ چند ماہ  کے  اندر اندر  سیاسی  عدم استحکام  کے  الزام  پر  گورنر جنرل پاکستان  نے  آپ  کی حکومت  برخاست  کی ۔ 1955 میں آپ  کو  مرکزی حکومت  میں  وزریر  داخلہ  اور 1956 تا  1958 گورنر مشرقی پاکستان  بنایا گیا ۔ آپ 1961 تک وفاقی وزیرخوراک و زراعت بھی رہے ۔ 


شیخ مجیب الرحمان سے حلف لیتے  ہوئے ۔1954 


حرف  آخر 
شیر بنگلہ  کی ساری سیاسی جدوجہد وطن کی آزادی ،  تعلیم کے فروغ ، کسانوں کی فلاح ، جابر اور استحصالی قوتوں کا مقابلہ اور معاشی و معاشرتی انصاف کی فراہمی میں وقف ہوا ۔ آپ نے اپنی سیاسی زنگی میں کئی سیاسی جماعتوں میں کام کیا  اور آپ کے سیاسی نظریات وقت کے ساتھ بدلتے رہے ۔  آپ نے بے شمار تعلیمی اداروں کے  قیام کے  ساتھ ساتھ   ڈھاکہ میں مشہور  بنگلہ  اکیڈمی قائم کی ۔ 
بنگالی زبان کے عظیم شاعررابندر ناتھ ٹیگور کے ساتھ 

آپ آزادی سے پہلے  متحدہ بنگال کے دو دفعہ وزیراعلیٰ بنے اور پاکستان بننے کے بعد مشرقی بنگال کے وزیراعلیٰ اور گورنر رہے لیکن ہر بار  آپ کی پارٹی اسمبلی کی بڑی پارٹی نہیں تھی مگر آپ  کی  سیاسی بصیرت کی بنا پر  آپ  حکومت بنانے میں  کامیاب ٹھرتے ۔   آپ 27 اپریل 1962  کو فوت ہوئے ۔ 30 اپریل 1962 کو شیر بنگلہ کی وفات  پر  پاکستان کے تمام تعلیمی ادارے بند رہے ۔ آپ کو ڈھاکہ ہائی کورٹ کے احاطے میں دفن کیا گیا ۔ بعد میں اسی مقبرے میں پاکستان کے سابقہ وزراء اعظم خواجہ ناظم الدین اور حسین شہید سہروردی بھی دفن ہوئے ۔ 

آپ کا مدفن - ڈھاکہ

کراچی میں پاکستان مسلم لیگ (شیر بنگال) کے نام سے سیاسی پارٹی قائم ہے جو وہاں بسنے والے بنگالیوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہی ہے ۔ 

پاکستان مسلم لیگ (شیر بنگال اے ۔ کے فضل الحق ) کا انتخابی نشان رکشہ ہے ۔


Thursday, 16 July 2015

روئیت ہلال کا مسئلہ — سوال در سوال (Urdu) The issue of Moon Gazing -- core questions


روئیت ہلال کا مسئلہ — سوال در سوال

پاکستان میں ہرسال کی طرح اس دفعہ بھی رمضان المبارک اور عیدالفطر کے چاند نظر آنے کے اعلانات پر اتفاق نہیں ہوسکا  اور خیبر پختونخوا کے اکثر علاقوں میں باقی ملک سے  ایک دن پہلے رمضان اور عید کا اعلان ہوا ۔ اس بلاگ میں علماء کرام کی جانب سے  اس نااتفاقی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں ۔ اگرچہ  راقم نے اپنی طرف سے ان غیر علمی سوالات کے جوابات تحریر کئے ہیں مگر آپ موازنہ کریں کہ آپ  خود ان سوالات کے جوابات کن الفاظ میں دینگے ۔


س ۔ روئیت ہلال کمیٹی کب قائم کی  گئی ہے ؟

ج ۔ انگریزوں سے آزادی کے اگلے سال 1948 میں مرکزی روئیت ہلال کمیٹی قائم کی گئی (یاد رہے کہ 1947 میں پاکستان کی  آزادی کے صرف تین دن بعد عیدالفطر تھی ) ۔ یہ کمیٹی ضلعی کمیٹیوں سے شہادتیں  اور محکمہ موسمیات سے ماہرانہ رائے لیتی ۔ 1958 میں پہلی مرتبہ ا ہل پشاور نے باقی ملک سے پہلے ایک روز پہلے روزہ رکھ کر عید بھی پہلے منائی ۔ فوجی آمر ایوب خان نے 1961 ، 1966 اور 1967 میں مرکزی کمیٹی کے اعلانات کے برعکس ایک دن پہلے عید کا اعلان کیا ۔ حکومت کے ان بے بنیاد فیصلوں سے عوام (خاص کر کراچی کے شہریوں ) نے اتفاق نہیں کیا ۔ عجیب بات یہ ہے کہ 1971 تک مشرقی پاکستان کی شہادت پورے ملک کے لیے تسلیم کی جاتی تھی لیکن اب بنگلہ دیش میں عید کا اعلان ہمارے لیے  معتبر نہیں ہے ۔
یہ نصف صدی کا قصہ ہے ، دو چار برس کی بات نہیں
 1958  روزنامہ جنگ 
مسئلے کے پائیدار حل کے لیے بھٹو حکومت نے جنوری 1974 میں قومی اسمبلی کے ایکٹ کے تحت 9 ارکان (بمع ایک خاتوں رکن ) پر مشتمل مرکزی کمیٹی قائم کی ۔ چاروں صوبوں میں بھی مقامی کمیٹیاں قائم ہوئیں ۔ قانون میں مزید کہا گیا  کہ کمیٹی کے ممبران اور چئرمین کی مدت عرصہ تین سال  ہوگی اور وہ بھی صرف ایک بار کے لیے ۔ لیکن مفتی منیب صاحب پچھلے 18 سال سے کمیٹی میں موجود ہیں ۔ اس کے علاوہ کمیٹی کے ممبران  کی تعداد بھی غیر قانونی طریقے سے بڑھا کر  15 کردی گئی ہے ۔
مفتی منیب الرحمان صاحب 1997 میں کمیٹی کے رکن بنے ۔ 1999 میں خیبر پختونخوا سے کمیٹی کے رکن نے  اجلاس سے واک آؤٹ کرتے ہوئے مفتی منیب اور اُس وقت کے چئیرمین پر  الزام لگایا  کہ یہ دونوں خیبر پختونخوا کی شہادتوں کو تسلیم نہیں کرتے ۔
پرویز مشرف نے قانون کو روندتے ہوئے 2001 میں مفتی منیب کو کمیٹی کا چئیرمین بنایا ۔  کمیٹی کے ارکان کے آپس میں  مسلکی اور سیاسی اختلافات کی وجہ سے موصولہ شہادتوں پر اتفاق قائم کرنا ایک مشکل عمل بن چکا ہے  ۔ یہی وجہ ہے کہ   کمیٹی کا اجلاس ایک رسمی کاروائی بن گئی ہے کیونکہ  چاند کی روئیت کے اعلان کے لیے کمیٹی شہادت کی بجائے محمکہ موسمیات کے اعداد و شمار پر انحصار کرتی ہے ۔ واضح رہے کہ پچھلے 15 سال میں صرف دو دفعہ پورے ملک میں ایک ساتھ عید منائی گئی ہے ۔
غیر مؤثر کردار کی وجہ ملک کے بیشتر علماء ،  سیاسی رہنما اور دانشور و صحافی مرکزی کمیٹی کو ایک سیاسی رشوت سے تعبیر کرتے ہیں اور اس کو ختم کرنے کی تجویز پیش کرتے ہیں ۔ دوسری طرف مسجد قاسم علی خان ( پشاور ) کا دعویٰ ہے کہ ان کے بزرگ و اکابر 1825 سے چاند کی روئیت کا اہتمام کرتے چلے آرہے ہیں ۔ 

س ۔  کیا پورے  ملک  میں  ایک  دن  عید منایا جاسکتا ہے ؟

 رمضان ، محرم اور عیدین کے مواقع پر چاند کی روئیت عوام کے لیے اہمیت اختیار کر جاتی  ہے ۔   بدقسمتی سے مرکزی رویئت ہلال کمیٹی قمری مہینے کا اعلان پورے ملک کے لیے  اتفاق سے کرنے میں مسلسل ناکام رہی ہے اور پشاور میں قائم مقامی روئیت ہلال کمیٹی عموماً
ایک دن پہلے ہی چاند نظر آنے کا اعلان کردیتی ہے ۔ اگر مرکزی کمیٹی اپنے بنیادی مقاصد کے حصول میں سالہاسال سے ناکام رہی ہے تو پھر ایسی کمیٹی کو برقرار رکھنا اور ملکی خزانے پر بوجھ ڈالنے کا کیا فائدہ ہے ؟

مفتی شہاب الدین پوپلزئی ۔ مسجد قاسم علی خان پشاور

س ۔ کمیٹی کے چئیرمین کون ہیں ؟

ج ۔ کمیٹی کے چئیرمین جناب مفتی منیب الرحمان صاحب ہیں ۔ موصوف کو فوجی آمر پرویز مشرف نے اس عہدے پر 2001 میں  تعینات کیا تھا ۔ اس دوران ملک کے چار صدور اور پروزیز مشرف کے علاوہ سات وزرائے اعظم حکمران بنے ہیں ۔ مشرف کے بعد دو مکمل جمہوری حکومتیں بھی آئیں لیکن آپ کو عہدے سے نہیں ہٹایا گیا ۔ پانچ سال پہلے اٹھارویں ترمیم منظور کرتے ہوئے مشرف کے تمام احکامات غیر آئینی قرار دئے گئے مگر مفتی منیب ( اور گورنر سندھ عشرت العباد ) اپنے عہدے پر تاحال براجمان ہیں ۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب ایک شخص مسلسل کسی عہدے پر فرائض سرانجام دیتا رہے تو اس سے  اس شخص کی اور ادارے کی  کارکردگی پر منفی اثر پڑتا ہے ۔

مرکزی روئیت ہلال کمیٹی کے چئیرمین جناب مفتی منیب الرحمان ،  آپ 15 سال سے غیر قانونی طور سے اس عہدے پر موجود ہیں ۔

س ۔ کیا کبھی کمیٹی کے ارکان نے خود چاند دیکھا ہے ؟

ج ۔ نہیں ۔ تو پھر کیوں کثیر تعداد میں عمر رسیدہ  کمیٹی کے ممبران کو ہر بار ملک کے مختلف حصوں میں کسی اونچی عمارت کے اوپر دوربین لگا کر  ٹی وی کیمرے کے سامنے  چاند دیکھنے کی لا حاصل سعی  کرائی  جاتی ہے ۔ اجلاس میں موجود صحافی بتاتے ہیں کہ ارکان صرف تصویر بنانے کی حد تک چاند دیکھنے کے لئے آسمان کی طرف دیکھتے ہیں ۔  کیا یہ قوم سے ایک مذاق نہیں ہے ؟
مرکزی روئیت ہلال کمیٹی کے اراکین 

س ۔ کیا پشاور میں بغیر شہادت کے رمضان / عیدین کا  اعلان ہوتا ہے ؟

ج ۔ ںہیں ۔ بلکہ خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں سے شہادتیں موصول ہونے کے بعد اعلان ہوتا ہے ۔ تو پھر مرکزی کمیٹی کو یہ شہادتیں کیوں منظور نہیں ہوتیں ؟ مرکزی کمیٹی ایک گھنٹے کے اندر کیوں اجلاس ختم کرنے کا اعلان کردیتی ہے  ۔ یہ جانتے ہوئے کہ شہادت دینے کے کئی وقت طلب احکامات ہیں اور دور دراز پہاڑی علاقوں سے شہادت پہنچنے پر وقت لگتا ہے ؟ مزید یہ کہ پچھلے کئی سالوں سے مرکزی روئیت ہلال کمیٹی کا اجلاس پشاور میں منعقد نہیں ہوسکا ہے ۔ اس نااتفاقی نے پہلے سے بکھری ہوئی  قوم کو ایک نئے اور اضافی نقطہ نظر سے تقسیم کردیا ہے ۔

س ۔ چاند کب نظر آتا ہے ؟

ج ۔ پہلے دن کا چاند جسے ہلال کہا جاتا ہے ،  بہت باریک ہوتا ہے اس لیے ہر کسی کو (نظر کی کمزوری کی بنا پر ) نظر نہیں آتا ہے ۔ اس طرح یہ چاند ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے ہر جگہ سے بھی نظر نہیں آسکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ چاند دیکھنے کی گواہی دینے والے اور گواہی لینے والے کے لئے کڑی شرائظ رکھی گئیں ہیں ۔ مگر مرکزی رویئت ہلال کمیٹی جس دن چاند نظر آنے کا اعلان کرتی ہے اس دن چاند اتنا بڑا ہوتا ہے کہ ہر کسی کو ہر جگہ سے  نظر آتا ہے (بلکہ ٹی وی کیمرے پر بھی دکھایا جاتا ہے ) ۔ اگر اسی چاند کو پہلے دن کا چاند مان لیا جائے تو پھر شہادت کے سلسلے میں اتنے سخت احکامات کیوں ہیں اور پھر ہر کسی کو نظر آنے والے چاند کے لیے خصوصی کمیٹی کی کیا ضرورت ہے ؟
پہلے دن کے چاند کو ٹی کیمرہ دکھاتے ہوئے 

س ۔ پشاور کا اعلان کیوں مشکوک ہے ؟

ج ۔ محکمہ موسمیات کی واضح پیشن گوئی اور  اعلانات کے باوجود پشاور کی کیمٹی چاند نظر آنے کا اعلان کردیتی ہے ۔ اس جدید سائنسی دور میں ماہرین فلکیات کی رائے بہت اہمیت رکھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ  مرکزی کمیٹی محکمہ موسمیات کی پیشن گوئی کو بہت اہمیت دیتی ہے ۔  اگر چاند نظر آنے کے لیے سائنس پر انحصار کرنا ہے ( اور کرنا بھی چاہئیے ) تو پھر قمری مہینے کے اعلان کا کام محکمہ موسمیات کے سپرد کرکے مرکزی کمیٹی کو ختم کرنا چاہئے ۔ قومی یک جہتی بھی قائم رہے گی اور قومی خزانے پر بوجھ بھی کم ہوجائے گا ۔

س ۔ کیا حکومت نے دوسرے مذہبی معاملات کے لیے بھی علماء پر مشتمل کمیٹیاں قائم کیں ہیں ؟

ج ۔ نہیں ۔ حکومت دوسرے مذہبی امور ( جیسے حج اور زکواۃ کی وصولی اور تقسیم وغیرہ ) اپنے قوانین اور طور طریقے سے کراتی ہے ۔ تو پھر یہ معاملہ بھی کسی سرکاری افسر کے سپرد کرنا چاہئے جو ماہرین فلکیات کی تجاویز کی روشنی میں  سرکاری حکم نامے کی صورت میں رمضان / عید کا اعلان کیا کرے ۔

س ۔ کیا پشاور کی کمیٹی عیدالاضحیٰ کا اعلان بھی باقی ملک سے ایک روز پہلے کرتی ہے ؟

ج ۔ نہیں ۔ پچھلے چند سال سے سارا تنازعہ رمضان اور شوال (عیدالفطر) کے اعلان پر ہے ۔ جبکہ مفتی شہاب الدین پوپلزئ صاحب  ذوالحج ( عیدالاضحیٰ ) کا اعلان مرکزی کمیٹی کے ساتھ کرتے ہیں۔ شاید مفتی صاحب کم از کم اسلامی سال کا آغاز اتفاق سے کرنا چاہتے ہیں جس کا آغاز محرم سے ہوتا ہے ۔

س ۔ اتنے بڑے عوامی مسئلے پر حکومت کیوں خاموش ہے ؟

ج ۔ شاید مختلف حکومتیں  نااہلی کی وجہ سے یہ مسئلہ حل نہیں کرسکیں ہیں یا حکمران چاہتے ہیں کہ عوام کسی معاشرتی  مسئلے میں اُلجھی رہے اور حکمران بلا کسی تعطل کے لوٹ مار جاری رکھ سکیں ۔

تجاویز :

مرکزی اور پشاور میں موجود مقامی روئیت ہلال کمیٹیوں کے علماء کرام کو چاہئے کہ آپس کے اختلافات ایک طرف رکھ کر اس مسئلے پر یک جہتی قائم کریں اور پہلے سے فرقہ ورانہ اور مسلکی بنیادوں پر تقسیم مسلمانوں کو مزید علاقائی سطح پر تقسیم نہ کیا جائے ۔ اگر یہ علماء خود سے آپس میں اتفاق نہیں کرتے تو پھر حکومت یا کوئی  دوسرا پریشر گروپ یا عوام ان پر دباؤ ڈالیں کہ یہ لوگ اختلافات ختم کردیں ۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر قمری مہینے کے آغاز کے لیے مندرجہ ذیل تجاویز پر عمل کرایا جاسکتا ہے ۔

1 ۔ مرکزی روئیت ہلال کمیٹی پورے ملک سے بلا کسی امتیاز کے شہادتیں وصول کرے اور اعلان کرتے ہٓوئے کمیٹی  کسی سیاسی یا فرقہ ورانہ دباؤ یا مصالحت  کا شکار نہ ہو ۔

2۔ چاند نظر آنے کا کام محکمہ موسمیات کے سپرد کیا جائے ۔ محکمہ موسمیات سائنسی آلات اور علم فلکیات کی روشنی میں قمری مہینے کے آغاز کا مستند فیصلہ کرسکتی ہے ۔ اس سے نہ صرف روئیت ہلال کا دیرینہ مسئلہ حل ہوگا بلکہ ملکی خزانے پر بوجھ بھی کم ہوگا ۔
جدید آلات کا استعمال زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں ہے 

3۔ قمری سال اور مہینوں کا حساب کتاب سعودی عرب سے منسلک کیا جائے ۔ چونکہ سعودی عرب میں امور ریاست کے لیے بھی قمری سال استعمال کیا جاتا ہے   یہی  وجہ ہے کہ وہ لوگ چاند کی روئیت کا خاص اہتمام کرتے ہیں ۔ قمری مہینے کا اعلان سعودی عرب سے منسلک کرکے ہم ہجری سال سے متعلق نہ صرف قومی سطح پر  بلکہ  دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ یکجا ہوسکتے ہیں ۔

4 ۔ اگر مندرجہ بالا تجاویز میں کسی پر بھی عمال کرنا کسی بھی وجہ سے ناقابل عمل ہو تو پھر مرکزی کمیٹی کو تھوڑا جائے اور یہ کام مقامی کمٹیوں کے سپرد کیا جائے تو ہر علاقہ اپنی کمیٹی کے اعلان سے عید منائے گا ۔ ویسے بھی حکومت نے اس دفعہ عید پر پانچ چھٹیوں کا اعلان کیا ہے اور مختلف علاقوں کے  عوام کے پاس کئی عیدوں سے لطف اندوذ ہونے کا بہت سارا وقت دستیاب ہے  ۔

Mufti Abdul Qawi--Member Central Ruet-e-Hilal Committee 


نوٹ : قارئین کرام کو اس بحث سے اختلاف ، اس میں تصحیح اور اضافے کی مکمل آزادی ہے ۔  






روئیت ہلال کا مسئلہ — سوال در سوال (Urdu) The issue of Moon Gazing -- core questions


روئیت ہلال کا مسئلہ — سوال در سوال

پاکستان میں ہرسال کی طرح اس دفعہ بھی رمضان المبارک اور عیدالفطر کے چاند نظر آنے کے اعلانات پر اتفاق نہیں ہوسکا  اور خیبر پختونخوا کے اکثر علاقوں میں باقی ملک سے  ایک دن پہلے رمضان اور عید کا اعلان ہوا ۔ اس بلاگ میں علماء کرام کی جانب سے  اس نااتفاقی پر سوالات اٹھائے گئے ہیں ۔ اگرچہ  راقم نے اپنی طرف سے ان غیر علمی سوالات کے جوابات تحریر کئے ہیں مگر آپ موازنہ کریں کہ آپ  خود ان سوالات کے جوابات کن الفاظ میں دینگے ۔


س ۔ روئیت ہلال کمیٹی کب قائم کی  گئی ہے ؟

ج ۔ انگریزوں سے آزادی کے اگلے سال 1948 میں مرکزی روئیت ہلال کمیٹی قائم کی گئی (یاد رہے کہ 1947 میں پاکستان کی  آزادی کے صرف تین دن بعد عیدالفطر تھی ) ۔ یہ کمیٹی ضلعی کمیٹیوں سے شہادتیں  اور محکمہ موسمیات سے ماہرانہ رائے لیتی ۔ 1958 میں پہلی مرتبہ ا ہل پشاور نے باقی ملک سے پہلے ایک روز پہلے روزہ رکھ کر عید بھی پہلے منائی ۔ فوجی آمر ایوب خان نے 1961 ، 1966 اور 1967 میں مرکزی کمیٹی کے اعلانات کے برعکس ایک دن پہلے عید کا اعلان کیا ۔ حکومت کے ان بے بنیاد فیصلوں سے عوام (خاص کر کراچی کے شہریوں ) نے اتفاق نہیں کیا ۔ عجیب بات یہ ہے کہ 1971 تک مشرقی پاکستان کی شہادت پورے ملک کے لیے تسلیم کی جاتی تھی لیکن اب بنگلہ دیش میں عید کا اعلان ہمارے لیے  معتبر نہیں ہے ۔
یہ نصف صدی کا قصہ ہے ، دو چار برس کی بات نہیں
 1958  روزنامہ جنگ 
مسئلے کے پائیدار حل کے لیے بھٹو حکومت نے جنوری 1974 میں قومی اسمبلی کے ایکٹ کے تحت 9 ارکان (بمع ایک خاتوں رکن ) پر مشتمل مرکزی کمیٹی قائم کی ۔ چاروں صوبوں میں بھی مقامی کمیٹیاں قائم ہوئیں ۔ قانون میں مزید کہا گیا  کہ کمیٹی کے ممبران اور چئرمین کی مدت عرصہ تین سال  ہوگی اور وہ بھی صرف ایک بار کے لیے ۔ لیکن مفتی منیب صاحب پچھلے 18 سال سے کمیٹی میں موجود ہیں ۔ اس کے علاوہ کمیٹی کے ممبران  کی تعداد بھی غیر قانونی طریقے سے بڑھا کر  15 کردی گئی ہے ۔
مفتی منیب الرحمان صاحب 1997 میں کمیٹی کے رکن بنے ۔ 1999 میں خیبر پختونخوا سے کمیٹی کے رکن نے  اجلاس سے واک آؤٹ کرتے ہوئے مفتی منیب اور اُس وقت کے چئیرمین پر  الزام لگایا  کہ یہ دونوں خیبر پختونخوا کی شہادتوں کو تسلیم نہیں کرتے ۔
پرویز مشرف نے قانون کو روندتے ہوئے 2001 میں مفتی منیب کو کمیٹی کا چئیرمین بنایا ۔  کمیٹی کے ارکان کے آپس میں  مسلکی اور سیاسی اختلافات کی وجہ سے موصولہ شہادتوں پر اتفاق قائم کرنا ایک مشکل عمل بن چکا ہے  ۔ یہی وجہ ہے کہ   کمیٹی کا اجلاس ایک رسمی کاروائی بن گئی ہے کیونکہ  چاند کی روئیت کے اعلان کے لیے کمیٹی شہادت کی بجائے محمکہ موسمیات کے اعداد و شمار پر انحصار کرتی ہے ۔ واضح رہے کہ پچھلے 15 سال میں صرف دو دفعہ پورے ملک میں ایک ساتھ عید منائی گئی ہے ۔
غیر مؤثر کردار کی وجہ ملک کے بیشتر علماء ،  سیاسی رہنما اور دانشور و صحافی مرکزی کمیٹی کو ایک سیاسی رشوت سے تعبیر کرتے ہیں اور اس کو ختم کرنے کی تجویز پیش کرتے ہیں ۔ دوسری طرف مسجد قاسم علی خان ( پشاور ) کا دعویٰ ہے کہ ان کے بزرگ و اکابر 1825 سے چاند کی روئیت کا اہتمام کرتے چلے آرہے ہیں ۔ 

س ۔  کیا پورے  ملک  میں  ایک  دن  عید منایا جاسکتا ہے ؟

 رمضان ، محرم اور عیدین کے مواقع پر چاند کی روئیت عوام کے لیے اہمیت اختیار کر جاتی  ہے ۔   بدقسمتی سے مرکزی رویئت ہلال کمیٹی قمری مہینے کا اعلان پورے ملک کے لیے  اتفاق سے کرنے میں مسلسل ناکام رہی ہے اور پشاور میں قائم مقامی روئیت ہلال کمیٹی عموماً
ایک دن پہلے ہی چاند نظر آنے کا اعلان کردیتی ہے ۔ اگر مرکزی کمیٹی اپنے بنیادی مقاصد کے حصول میں سالہاسال سے ناکام رہی ہے تو پھر ایسی کمیٹی کو برقرار رکھنا اور ملکی خزانے پر بوجھ ڈالنے کا کیا فائدہ ہے ؟

مفتی شہاب الدین پوپلزئی ۔ مسجد قاسم علی خان پشاور

س ۔ کمیٹی کے چئیرمین کون ہیں ؟

ج ۔ کمیٹی کے چئیرمین جناب مفتی منیب الرحمان صاحب ہیں ۔ موصوف کو فوجی آمر پرویز مشرف نے اس عہدے پر 2001 میں  تعینات کیا تھا ۔ اس دوران ملک کے چار صدور اور پروزیز مشرف کے علاوہ سات وزرائے اعظم حکمران بنے ہیں ۔ مشرف کے بعد دو مکمل جمہوری حکومتیں بھی آئیں لیکن آپ کو عہدے سے نہیں ہٹایا گیا ۔ پانچ سال پہلے اٹھارویں ترمیم منظور کرتے ہوئے مشرف کے تمام احکامات غیر آئینی قرار دئے گئے مگر مفتی منیب ( اور گورنر سندھ عشرت العباد ) اپنے عہدے پر تاحال براجمان ہیں ۔ یہ بات روز روشن کی طرح عیاں ہے کہ جب ایک شخص مسلسل کسی عہدے پر فرائض سرانجام دیتا رہے تو اس سے  اس شخص کی اور ادارے کی  کارکردگی پر منفی اثر پڑتا ہے ۔

مرکزی روئیت ہلال کمیٹی کے چئیرمین جناب مفتی منیب الرحمان ،  آپ 15 سال سے غیر قانونی طور سے اس عہدے پر موجود ہیں ۔

س ۔ کیا کبھی کمیٹی کے ارکان نے خود چاند دیکھا ہے ؟

ج ۔ نہیں ۔ تو پھر کیوں کثیر تعداد میں عمر رسیدہ  کمیٹی کے ممبران کو ہر بار ملک کے مختلف حصوں میں کسی اونچی عمارت کے اوپر دوربین لگا کر  ٹی وی کیمرے کے سامنے  چاند دیکھنے کی لا حاصل سعی  کرائی  جاتی ہے ۔ اجلاس میں موجود صحافی بتاتے ہیں کہ ارکان صرف تصویر بنانے کی حد تک چاند دیکھنے کے لئے آسمان کی طرف دیکھتے ہیں ۔  کیا یہ قوم سے ایک مذاق نہیں ہے ؟
مرکزی روئیت ہلال کمیٹی کے اراکین 

س ۔ کیا پشاور میں بغیر شہادت کے رمضان / عیدین کا  اعلان ہوتا ہے ؟

ج ۔ ںہیں ۔ بلکہ خیبر پختونخوا کے مختلف شہروں سے شہادتیں موصول ہونے کے بعد اعلان ہوتا ہے ۔ تو پھر مرکزی کمیٹی کو یہ شہادتیں کیوں منظور نہیں ہوتیں ؟ مرکزی کمیٹی ایک گھنٹے کے اندر کیوں اجلاس ختم کرنے کا اعلان کردیتی ہے  ۔ یہ جانتے ہوئے کہ شہادت دینے کے کئی وقت طلب احکامات ہیں اور دور دراز پہاڑی علاقوں سے شہادت پہنچنے پر وقت لگتا ہے ؟ مزید یہ کہ پچھلے کئی سالوں سے مرکزی روئیت ہلال کمیٹی کا اجلاس پشاور میں منعقد نہیں ہوسکا ہے ۔ اس نااتفاقی نے پہلے سے بکھری ہوئی  قوم کو ایک نئے اور اضافی نقطہ نظر سے تقسیم کردیا ہے ۔

س ۔ چاند کب نظر آتا ہے ؟

ج ۔ پہلے دن کا چاند جسے ہلال کہا جاتا ہے ،  بہت باریک ہوتا ہے اس لیے ہر کسی کو (نظر کی کمزوری کی بنا پر ) نظر نہیں آتا ہے ۔ اس طرح یہ چاند ماحولیاتی آلودگی کی وجہ سے ہر جگہ سے بھی نظر نہیں آسکتا ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ چاند دیکھنے کی گواہی دینے والے اور گواہی لینے والے کے لئے کڑی شرائظ رکھی گئیں ہیں ۔ مگر مرکزی رویئت ہلال کمیٹی جس دن چاند نظر آنے کا اعلان کرتی ہے اس دن چاند اتنا بڑا ہوتا ہے کہ ہر کسی کو ہر جگہ سے  نظر آتا ہے (بلکہ ٹی وی کیمرے پر بھی دکھایا جاتا ہے ) ۔ اگر اسی چاند کو پہلے دن کا چاند مان لیا جائے تو پھر شہادت کے سلسلے میں اتنے سخت احکامات کیوں ہیں اور پھر ہر کسی کو نظر آنے والے چاند کے لیے خصوصی کمیٹی کی کیا ضرورت ہے ؟
پہلے دن کے چاند کو ٹی کیمرہ دکھاتے ہوئے 

س ۔ پشاور کا اعلان کیوں مشکوک ہے ؟

ج ۔ محکمہ موسمیات کی واضح پیشن گوئی اور  اعلانات کے باوجود پشاور کی کیمٹی چاند نظر آنے کا اعلان کردیتی ہے ۔ اس جدید سائنسی دور میں ماہرین فلکیات کی رائے بہت اہمیت رکھتی ہے اور یہی وجہ ہے کہ  مرکزی کمیٹی محکمہ موسمیات کی پیشن گوئی کو بہت اہمیت دیتی ہے ۔  اگر چاند نظر آنے کے لیے سائنس پر انحصار کرنا ہے ( اور کرنا بھی چاہئیے ) تو پھر قمری مہینے کے اعلان کا کام محکمہ موسمیات کے سپرد کرکے مرکزی کمیٹی کو ختم کرنا چاہئے ۔ قومی یک جہتی بھی قائم رہے گی اور قومی خزانے پر بوجھ بھی کم ہوجائے گا ۔

س ۔ کیا حکومت نے دوسرے مذہبی معاملات کے لیے بھی علماء پر مشتمل کمیٹیاں قائم کیں ہیں ؟

ج ۔ نہیں ۔ حکومت دوسرے مذہبی امور ( جیسے حج اور زکواۃ کی وصولی اور تقسیم وغیرہ ) اپنے قوانین اور طور طریقے سے کراتی ہے ۔ تو پھر یہ معاملہ بھی کسی سرکاری افسر کے سپرد کرنا چاہئے جو ماہرین فلکیات کی تجاویز کی روشنی میں  سرکاری حکم نامے کی صورت میں رمضان / عید کا اعلان کیا کرے ۔

س ۔ کیا پشاور کی کمیٹی عیدالاضحیٰ کا اعلان بھی باقی ملک سے ایک روز پہلے کرتی ہے ؟

ج ۔ نہیں ۔ پچھلے چند سال سے سارا تنازعہ رمضان اور شوال (عیدالفطر) کے اعلان پر ہے ۔ جبکہ مفتی شہاب الدین پوپلزئ صاحب  ذوالحج ( عیدالاضحیٰ ) کا اعلان مرکزی کمیٹی کے ساتھ کرتے ہیں۔ شاید مفتی صاحب کم از کم اسلامی سال کا آغاز اتفاق سے کرنا چاہتے ہیں جس کا آغاز محرم سے ہوتا ہے ۔

س ۔ اتنے بڑے عوامی مسئلے پر حکومت کیوں خاموش ہے ؟

ج ۔ شاید مختلف حکومتیں  نااہلی کی وجہ سے یہ مسئلہ حل نہیں کرسکیں ہیں یا حکمران چاہتے ہیں کہ عوام کسی معاشرتی  مسئلے میں اُلجھی رہے اور حکمران بلا کسی تعطل کے لوٹ مار جاری رکھ سکیں ۔

تجاویز :

مرکزی اور پشاور میں موجود مقامی روئیت ہلال کمیٹیوں کے علماء کرام کو چاہئے کہ آپس کے اختلافات ایک طرف رکھ کر اس مسئلے پر یک جہتی قائم کریں اور پہلے سے فرقہ ورانہ اور مسلکی بنیادوں پر تقسیم مسلمانوں کو مزید علاقائی سطح پر تقسیم نہ کیا جائے ۔ اگر یہ علماء خود سے آپس میں اتفاق نہیں کرتے تو پھر حکومت یا کوئی  دوسرا پریشر گروپ یا عوام ان پر دباؤ ڈالیں کہ یہ لوگ اختلافات ختم کردیں ۔ اگر یہ ممکن نہ ہو تو پھر قمری مہینے کے آغاز کے لیے مندرجہ ذیل تجاویز پر عمل کرایا جاسکتا ہے ۔

1 ۔ مرکزی روئیت ہلال کمیٹی پورے ملک سے بلا کسی امتیاز کے شہادتیں وصول کرے اور اعلان کرتے ہٓوئے کمیٹی  کسی سیاسی یا فرقہ ورانہ دباؤ یا مصالحت  کا شکار نہ ہو ۔

2۔ چاند نظر آنے کا کام محکمہ موسمیات کے سپرد کیا جائے ۔ محکمہ موسمیات سائنسی آلات اور علم فلکیات کی روشنی میں قمری مہینے کے آغاز کا مستند فیصلہ کرسکتی ہے ۔ اس سے نہ صرف روئیت ہلال کا دیرینہ مسئلہ حل ہوگا بلکہ ملکی خزانے پر بوجھ بھی کم ہوگا ۔
جدید آلات کا استعمال زندگی کے ہر شعبے میں نمایاں ہے 

3۔ قمری سال اور مہینوں کا حساب کتاب سعودی عرب سے منسلک کیا جائے ۔ چونکہ سعودی عرب میں امور ریاست کے لیے بھی قمری سال استعمال کیا جاتا ہے   یہی  وجہ ہے کہ وہ لوگ چاند کی روئیت کا خاص اہتمام کرتے ہیں ۔ قمری مہینے کا اعلان سعودی عرب سے منسلک کرکے ہم ہجری سال سے متعلق نہ صرف قومی سطح پر  بلکہ  دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ یکجا ہوسکتے ہیں ۔

4 ۔ اگر مندرجہ بالا تجاویز میں کسی پر بھی عمال کرنا کسی بھی وجہ سے ناقابل عمل ہو تو پھر مرکزی کمیٹی کو تھوڑا جائے اور یہ کام مقامی کمٹیوں کے سپرد کیا جائے تو ہر علاقہ اپنی کمیٹی کے اعلان سے عید منائے گا ۔ ویسے بھی حکومت نے اس دفعہ عید پر پانچ چھٹیوں کا اعلان کیا ہے اور مختلف علاقوں کے  عوام کے پاس کئی عیدوں سے لطف اندوذ ہونے کا بہت سارا وقت دستیاب ہے  ۔

Mufti Abdul Qawi--Member Central Ruet-e-Hilal Committee 


نوٹ : قارئین کرام کو اس بحث سے اختلاف ، اس میں تصحیح اور اضافے کی مکمل آزادی ہے ۔  






Wednesday, 8 July 2015

کالاباغ ڈیم (حصہ پنجم) -- "تجزیہ " -- Kalabagh Dam (P V) Analysis

کالاباغ ڈیم (حصہ پنجم)   -- "تجزیہ "

 کالاباغ ڈیم کو سمجھنے کے لیے بلاگز کا سلسلہ 

کالاباغ ڈیم انڈس ریور کے اوپر ڈیزائن کیا گیا ہے جس کا پانی  1991 کے معاہدے کے تحت تمام صوبوں میں درج ذیل فارمولے کے تحت  تقسیم کیا گیا ہے ۔ تمام وسائل سے حاصل شدہ پانی میں پنجاب کے لیے 37 ٪ ، سندھ 37 ٪     ، خیبر پختونخوا  6 ٪ ، بلوچستان 7 ٪ ، کوٹری  ڈاؤن  سٹریم 5 ٪ اور  لائن لاسسز کے لیے  8 ٪  پانی مختص کیا گیا ہے ۔ 
عام تاثر یہ ہے کہ سیاستدانوں نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کو سیاسی مسئلہ بنا دیا ہے۔ لیکن حالات و واقعات کے تجزیہ کریں تو کالا باغ سیاسی نہیں بلکہ خالصتاً تکنیکی مسئلہ ہے  لیکن غلط طریقے سے ہینڈل کیا گیا ہے۔ ذیل میں کالاباغ ڈیم کے معاملے کو الجھانے والے عناصر اور حل کی جانب پیش قدمی نہ ہونے کی وجوہات کا تجزیہ کیا گیا  ہے ۔
ڈیم مخالف  صوبے ( خیبر پختونخوا ، سندھ اور بلوچستان )
چھوٹے صوبوں کے رہنماؤں نے کالاباغ ڈیم کو زندگی اور موت کا مسئلہ قرار دیا ہے ۔ عوامی نیشنل پارٹی شروع سے ہی کالا باغ ڈیم کی مخالف رہی ہے ۔ ولی خان نے دھمکی دی تھی کہ اگر یہ ڈیم بنایا گیا تو وہ بم سمیت اس میں کھود کر اس کو تباہ کردیں گے ۔ اسفندیار ولی کا کہنا تھا کہ کالاباغ ڈیم اور پاکستان ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔ خیبرپختونخوا کی موجودہ حکومت (تحریک انصاف ) اور دیگر سیاسی پارٹیاں بھی کالاباغ ڈیم کی مخالف ہیں ۔  ڈیم کی مخالفت اُس وقت شروع ہوئی جب  جنرل ضیاء الحق کے دور میں واپڈا نے ضلع نوشہرہ کے علاقوں خیرآباد ، اکوڑہ خٹک اور جہانگیرہ میں کالاباغ ڈیم کے نتیجے میں  آبادی کے انخلا کے لیے نشانات لگا دئے۔  اس پر خیبر پختونخوا کے عوام اور سیاستدانوں اور اُس وقت کے گورنر فضل حق نے کالاباغ ڈیم کی پُرزور مخالفت کی جس سے ڈیم کا منصوبہ تنازعہ کا شکار ہوا ۔ واضح رہے کہ موجودہ وقت میں خیبر پختونخوا میں جنوبی اضلاع کے بعض حصوں کو چھوڑ کر زرعی پانی کی کوئی شدید قلت نہیں ہے ، جس طرح باقی ملک میں ہے ۔ اگر کرم تنگی ڈیم (شمالی وزیرستان ایجنسی) تعمیر ہوجائے تو اس سے صوبے کے جنوبی اضلاع کے لیے بھی پانی مہیا ہوجائے گا۔
صوبہ سندھ نے کالاباغ منصوبے کی سب سے پہلے مخالفت کی اور اس  صوبہ کی تقریباً تمام سیاسی جماعتیں کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے سخت خلاف ہیں ۔ سندھ کا نقطہ نظر  '( 1991  کے معاہدے کے باوجود  ) پنجاب کے ہاتھوں پانی کی چوری' کے نظریہ پر قائم ہے ۔  ماضی میں ذوالفقار علی  بھٹو نے دریائے سندھ سے چشمہ جہلم سے ایک نہر نکالنے کی منطوری دی جس کے تحت یہ نہر دریا میں تغیانی کے وقت (جولائی سے ستمبر تک ) پانی لے سکتی تھی ۔ 1984 میں پنجاب نے بغیر اجازت کے اس نہر کو جاری کردیا جس کے نتیجے میں صوبہ سندھ نے کالاباغ ڈیم منصوبے کے خاتمے کا مطالبہ شروع کیا ۔ سندھ کا اعتراض ہے کہ جب ڈیم میں پانی تمام صوبوں کے لیے ذخیرہ کیا جائے گا تو پانی کا بہاؤ صرف پنجاب کے لیے کیوں ہو؟ سندھ چاہتا ہے کہ کالاباغ کے منصوبے کو صرف بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال کیا جائے اور بجلی پیدا کرنے کے بعد پانی کا بہاؤ پھر دریا کی طرف کیا جائے جس سے تمام صوبوں کو ان کے حصے کا پانی پورا ملتا رہے گا ۔  عالمی قانون برائے تقسیم پانی کے مطابق کسی بھی دریا کے آخری حصہ پر موجود فریق کا یہ حق ہے کہ پانی کی ترسیل اس تک ممکن رہے ۔ اس وجہ سے صوبہ سندھ کی رضامندی کے بغیر اس ڈیم کی تعمیر ممکن نہیں ہے ۔
 بلو چستان کی قیادت کا کہنا ہے کہ اگر ملک کے تینوں صوبائی اسمبلیوں نے کالاباغ ڈیم کے خلاف قرار دادیں منظور کی ہیں تو پھر پنجاب زبر دستی اپنی مر ضی چھوٹوں صوبوں پر کیوں ٹھونسنا چاہتا ہے ۔
ڈیم کے حمایتی عناصر
پنجاب کے نا صرف سیاستدان (جو اصل میں  بڑے زمیندار اور صنعتکار ہیں ) ڈیم کی تعمیر کے  حق میں ہیں بلکہ وہاں سے تعلق رکھنے والے مذہبی رہنما ( مثلاً سنی اتحاد کونسل ، جماعت اہل سنت ، انجمن طلبائے اسلام ، جمیعت علماء پاکستان   ) اور گجرانوالہ ، فیصل آباد و لاہور چیمبر جیسے ادارے بھی ڈیم کی حمایت میں کوشاں ہیں ۔ پنجاب کے لکھاری ڈیم کی تعمیر کے لیے کبھی چیف جسسٹس سے سوموٹو ایکشن تو کبھی  فوج کے سپہ سالار کی مداخلت  تو کبھی سیاسی رہنماؤں (جسے نواز شریف ، الطاف حیسن ، عمران خان ، پرویز مشرف ) کی طرف یکطرفہ التجائیں کر رہے ہیں۔ 
پنجاب میں کالاباغ ڈیم بنانے کی تحریک کو جہاد کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور اسے پاکستان بچانے کا واحد ذریعہ سمجھا جاتا ہے ۔ اس فارمولے کے تحت جو لوگ کسی بھی وجہ سے ڈیم کے مخالف ہیں وہ پنجاب کی نظر میں غدار ، ملک دشمن ، ڈالروں کے عوض بھارت کے لیے کام کرنے والے اور زہریلے ذہنیت والے عناصر ہیں ۔ یہ گمراہ کن الزامات پنجاب کے نہ صرف دوسرے درجے کے لکھاری اور سیاستدان لگاتے ہیں بلکہ یہ وہاں کے بڑے اور مشہور اخبارات اور اسمبلی کے ممبران کی رائے بھی ہے  ۔ پنجاب سے مسلم لیگ (ن) کے ایک رکن پارلیمنٹ نے اسمبلی میں کہا  کہ جن صوبائی اسمبلیوں نے کالاباغ ڈیم کی مخالفت میں قراردادیں منظور کی ہیں انہیں توڑ دینا چاہئے ۔ پنجاب اسمبلی میں انکشاف کیا گیا کہ ڈیم کی حمایت کرنے والوں کو قتل کی دھمکیاں دی جاتی ہیں ۔ دوسری طرف پنجاب کالاباغ کے علاوہ  پانی و بجلی کے دیگر منصوبوں کی تعمیر پر آنکھیں بند کئے ہوئے ہے  ۔
آخر
اگرچہ ڈیم کے حامییوں کا دعویٰ ہے کہ اس ڈیم سے پورے ملک کو سستی بجلی اور  اضافی پانی فراہم ہوگا لیکن اس سے بھی زیادہ چاروں صوبوں میں اتفاق رائے اور یک جہتی ضروری ہے ۔ اگرچہ ظاہری طور سے یہ بات عیاں ہے کہ کالا باغ کی تعمیرکا مقصد دریائے سندھ کا پانی روکنانہیں ہے بلکہ اس کا مقصد بارشوں اور سیلاب کے پانی کو کالاباغ ڈیم میں جمع کر لینا ہے اور اس ڈیم سے پورے پاکستان کو پانی اضافی طور پر فراہم کیا جا سکے جس کی زیادہ تر مقداد بہہ جاتی ہے لیکن اعتماد کی کمی کے باعث رائے ہموار نہیں ہورہی ہے ۔
 بھارت مقبوضہ کشمیر سے آنے والے تمام دریاؤں اور ندی نالوں کا پانی روک کر ڈیم تعمیر کر رہا ہے ۔ لیکن دوسری طرف ہمارے حکمران  قلیل المدت سوچ رکھتے ہیں اور وہ ایسے کاموں میں مصروف ہوتے ہیں جس سے  وہ   ذاتی فائدہ بھی اٹھائیں اور اگلے انتخابات میں ووٹ بھی حاصل کریں ۔ واضح رہے کہ ڈیم بنانا چھ سے دس سال کا پراجیکٹ ہوتا ہے اور اگر ڈیم کی تعمیر کے دوران انتخابات کے ذریعے دوسری پارٹی برسراقتدار آجائے تو ڈیم کا سیاسی فائدہ اُن کو مل سکتا ہے  ۔ آبی منصوبوں کا التواء قوم سے دھوکے کے مترادف ہے ۔
اگر کالاباغ اختلافات کا شکار ہے تو حکمرانوں کو  دوسرے ڈیم بنانے سے کس نے روکا ہے ؟ کہیں ایسا تو نہیں کہ حکمرانوں کی ذہنی استعداد اور ویژن کم ہے ؟ ان کے گھروں کو تو بجلی پہنچتی ہے ، جنریٹروں کو قومی خزانے سے تیل ملتا ہے ، اور سب سے بڑھ کر یہ لوگ تو اپنا مستقل ٹھکانہ بیرون ملک کو سمجھتے ہیں یہاں تو وہ حکمرانی اور مال بٹورنے کے لیے بیٹھے ہیں اور جب خدانخواستہ حالات خراب ہوئے تو عوام کو اندھیروں میں چھوڑ کر خود بھاگ جائیں گے  ۔ جس قوم کے لوگ محلے میں ایک نالی بنوانے  پر ساری عمر ووٹ دیتے ہوں وہاں کے سیاستدانوں کی سوچ ڈیم بنانے کی طرف کیوں جائے گی ؟ دوسری بات یہ ہے کہ حکمرانوں کے سریا و سیمنٹ کے کارخانے نالی اور سڑکوں کی تعمیر کے لیے مال فراہم کررہے ہیں اور اُن کے کارخانوں کا منافع ابھی جاری ہے ۔ اگر ان کے کارخانے اس مقدار میں مال بنانا شروع کرے جس کے لیے ڈیم جیسے بڑے منصوبے کی ضرورت ہو تو شاید حکمران پھر ڈیم بنانے کی طرف متوجہ ہوں ۔

اب سوال یہ ہے کہ اگر کالاباغ ڈیم کا بننا صوبوں کی عدم تسلی اور حکمرانوں کی عدم دلچسپی کی وجہ سے ممکن ہی نہیں تو حکومتیں (اور کچھ دیگر عناصر ) کیوں ایک مردے گھوڑے کو زندہ کرنے کی کوشش کرتی نظر آتی ہے ۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ حکومت بعض مسائل اور امور سے فرار اختیار کرنے اور سیاسی سکور کرنے  کے لیے کالاباغ ڈیم کا سہارا لے رہی ہو ؟ اگر کالا باغ ڈیم کی تعمیر ممکن نہیں تو ایسی صورت میں عوام کو زمینی حقائق سے آگاہ کرتے ہوئے متبادل ڈیموں پر کام کا آغاز کر دینا چاہئے ۔
جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔
ںوٹ : قارئین کرام کو اس تجزئے سے اختلاف اور اس میں تصحیح کی مکمل آزادی ہے ۔