Friday, 3 July 2015

کالاباغ ڈیم (حصہ چھارم) "صوبوں کا نقطہ نظر" -- "Kalabagh Dam (P IV) "Point of view of provinces

کالاباغ ڈیم (حصہ چھارم) "صوبوں  کا نقطہ نظر"

کالاباغ ڈیم کی تعمیر  سے حاصل ہونے فوائد کے باوجود پنجاب کے علاوہ ملک کے  تین صوبوں میں اس منصوبے سے متعلق عوامی رائے ہموار نہیں ہوسکی ہے جس کی وجہ سے کئی بار کی کوششوں کے باوجود اس ڈیم کی تعمیر پر اتفاق رائے نہیں ہو پایا ۔ بلاگ کے اس چوتھے حصے میں ڈیم  کے متعلق عمومی تحفظات اور صوبوں کا نقطہ نظر پیش کیا گیا ہے ۔
منصوبے پر تکنیکی اعتراضات
بعض ماہرین کے مطابق دریائے سندھ میں پانی کا اوسط بہاؤ کالاباغ ڈیم کے لیے مطلوبہ مقدار سے کم ہے  جس کی وجہ سے ڈیم کے خشک رہنے کا  خدشہ  موجود رہے گا ۔ دوسری طرف  اگر افغان حکومت دریائے کابل پر بند باندھے تو اس سے  پاکستان میں دریائے کابل کے ذریعے آنے والے پانی کی مقدار کم ہوجائے گی جس کے نتیجے میں کالاباغ ڈیم کے لیے پہلے سے بھی کم پانی میسر ہوگا ۔  ماہرین کہتے ہیں کہ  کالاباغ ڈیم پر خرچ ہونے والی رقم اگر دریاؤں اور نہروں کی بہتری  پر خرچ کی جائے تو اس سے پانی کا ضیاع ختم ہوسکے گا اور ملک میں موجود پانی کی کمی کا مسئلہ حل ہوسکتا ہے ۔
 دریائے کابل پشاور اور نوشہرہ سے ہوتے ہوئے دریائے سندھ میں شامل ہوتا ہے 
کالاباغ بند زلزلوں کے لحاظ سے انتہائی خطرناک خطے (فالٹ لائن) کے قریب  واقع ہے ۔  علاقے میں موجود زیرزمین دراڑین ذخیرہ کیے گئے پانی کو سمو  لیں گی اور دریا میں پانی کا بہاؤ کم ہوجائے گا ۔  اکتوبر 2005 کے شدید زلزلے کے بعد اس بات کا خوف بھی پیدا ہوا ہے  کہ زلزلے کی صورت میں خدانخواستہ ڈیم پھٹنے کا بھی خدشہ موجود رہے گا ۔ اسکے علاوہ پہلے سے تعمیرشدہ بندوں کے نتیجے میں جو انسانی اور ماحولیاتی مسائل پیدا ہوئے ہیں ابھی تک ان مسائل کو بھی پوری طرح  حل نہیں کیا گیا ہے ۔ کالاباغ ڈیم سالٹ رینج میں واقع ہے جس سے اس ڈیم کی ساخت کمزور ثابت ہوسکتی ہے ۔  کالاباغ بند میں جمع ہونے والی ریت کا مسئلہ ماحولیاتی مسائل میں اور بھی اضافہ کرگا ۔
حکومت پاکستان نے 2003 میں  پانی کے وسائل اور کالاباغ بند کے منصوبے کے تکنیکی فوائد و نقصانات کا جائزہ لینے لے لیے اے۔ این ۔ جی عباسی کی سربراہی میں ایک تکنیکی کمیٹی تشکیل دی تھی ۔ اس کمیٹی نے دو سال بعد اپنی رپورٹ میں واضح طور پر رائے دی کی بھاشا اور کٹزرہ بند کی تعمیر جلد از جلد شروع  کرنی چاہئے  اور چونکہ  کالاباغ منصوبہ ملکی مفاد میں نہیں ہے لہٰذا اسے پس پشت ڈال دینا مفید ہوگا ۔
منصوبے پر عمومی تحفظات

اس منصوبے کے ماحول پر بھی کئی مضر اثرات لاحق  ہو سکتے ہیں ۔ اس کے علاوہ یہ منصوبہ ایک بڑی آبادی کی ہجرت کا بھی سبب بنے گا  ۔ چونکہ ڈیم کے مخالفین نے حاصل ہونے والے فوائد کی نسبت اس کے نقصانات کو واضح طور پر اجاگر کیا ہے اس لیے کالاباغ بند کی تعمیر کی مخالفت اس حد تک ہوچکی ہے کہ اس سے ملک میں نقص امن اور وفاق سے علیحدگی کا خطرہ پیدا ہوسکتا ہے ۔ ماہرین کی ایک رائے یہ بھی ہے کہ تربیلا ڈیم اور منگلا ڈیم کی سٹوریج کپیسیٹی میں سِلٹ (دریا یا جھیل کی تہہ میں مٹی اور ریت کا جمع ہونا -- Silt)  کیوجہ سے جو کمی واقع ہو چکی ہے وہ مجوزہ کالا باغ ڈیم کی سٹوریج کپیسیٹی کے برابر ہے ۔ ان کا خیال ہے کہ صرف نئے آؤٹ لٹ تعمیر کرکے سلٹ کو فلش آؤٹ کیا جا سکتا ہے جس سے کالا باغ ڈیم کے برابر کپیسیٹی دستیاب ہو سکتی ہے اور نئے ڈیم کی تعمیر کے مقابلے میں آؤٹ  لٹس پر بہت کم خرچہ آئے گا ۔

نوٹ : کالاباغ ڈیم پر چند  اعتراضات بلاگ کے پچھلے ( یعنی تیسرے ) حصے میں بھی درج ہیں ۔
کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر صوبوں کا نقطہ نظر
کالاباغ بند کی تعمیر کے منصوبے کو  پاکستان کے تین صوبوں خیبر پختونخوا ، سندھ اور بلوچستان سے اعتراضات کا سامنا ہے جبکہ  ڈیم کی تعمیر کے حق میں صرف صوبہ پنجاب ہے ۔ پنجاب کے علاوہ دوسرے صوبوں کی صوبائی اسمبلیوں نے مختلف ادوار میں  کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے خلاف متفقہ قراردادیں منظور کی ہیں ۔ پیپلز پارٹی کے گزشتہ دورِ حکومت میں قومی اسمبلی بھی اس ڈیم کے خلاف قرارداد منظور کر چکی ہے ۔
خیبر پختونخوا کا نقطہ نظر
خیبر پختونخوا کے کالاباغ ڈیم پر اعتراضات عبدالولی خان نے فوجی آمر جنرل ضیاء الحق کے دور میں اٹھائے تھے اور اُس وقت سے لیکر کالاباغ ڈیم کی مخالفت عوامی نیشنل پارٹی کی سیاست کا محور بن چکا ہے ۔  صوبہ خیبر پختونخوا کے کالاباغ بند پر دو بڑے اعتراضات ہیں ۔
1 ۔ خیبر پختونخوا کے وسطی اضلاع کے لیے خطرہ :  خیبر پختونخوا کی حکومت اور عوام کا سب سے بڑا اختلاف یہ ہے کہ اس ڈیم  کا ڈئیزائن نوشہرہ ، صوابی ، مردان ، چارسدہ  اور پشاور کے لئیے موزوں نہیں ہے اور ڈیم کے جھیل کی خطرناک حد تک زیادہ اونچائی سے خیبر پختونخوا کے کئی زرخیز زرعی اور شہری علاقے ڈوب سکتے ہیں ۔  کالاباغ بند کے ذخیرے کا  بیشتر حصہ خیبر پختونخوا میں واقعہ ہونے کی وجہ سے نہ صرف نوشہرہ بلکہ گرد و نواح کا پورا علاقہ سیم و تھور کا شکار ، ریت جمع ہونے سے ایک بڑا علاقہ بنجر اور  ہمہ وقت سیلابوں و شہری علاقے کے زیر آپ آنے کا خطرہ موجود رہے گا  ۔ سیلاب کی صورت میں دریائے سندھ میں پانی کی بلندی کافی بڑھ جاتی ہے جس سے دریائے کابل میں پانی بیک پریشر کا شکار ہوکر اُلٹا بہے گا اور اضافی پانی لبریز  ہوکر نشیبی علاقوں میں چھلک کر سیلابی شکل اختیار کر سکتا  ہے ۔ 2010ء  کے سیلاب کی تباہ کاریوں نے ان خدشات کو سپورٹ کیا ہے ۔   یہ ڈیم دریائے کابل میں سلٹ بھرنے کا سبب بھی بن سکتا ہے ۔  کرک اور مضافاتی علاقوں میں پانی کھارا / نمکین ہو نے کا خطرہ ہو گا (کرک کے اکثر علاقوں میں پانی پہلے سے نمکین ہے ) ۔
دریائے سندھ اور دریائے کابل کا سنگھم 
2۔ ڈیم کی رائییلٹی : خیبر پختونخوا کا دوسرا بڑا اعتراض ڈیم کی رائیلٹی پر ہے ۔ ڈیزائن کے مطابق کالا باغ بند کا ذخیرہ تو خیبر پختونخوا میں واقع ہوگا جو صوبے کے لیے کئی مسائل کا سبب بنے گا  لیکن بجلی پیدا  کرنے والی ٹربائنیں خیبر پختونخوا کی حدود سے چند سو گز کے فاصلے پر صوبہ پنجاب کی حدود میں واقع ہوں گی جس کی وجہ سے ڈیم کی رائیلٹی کا حقدار  پنجاب تصور ہوگا ۔
 خیبر پختونخوا میں احتجاج میں ڈیم کے فائدے اور نقصانات کو واضح کیا گیا ہے 
خیبر پختونخوا میں نہ صرف نیشنل عوامی پارٹی ڈیم کی مخالف ہے بلکہ صوبے کی دوسری مقبول سیاسی پارٹیاں جیسے کے  پاکستان تحریک انصاف ، پاکستان پیپلز پارٹی ، قومی وطن پارٹی اور عوامی جمہوری اتحاد کھل کر ڈیم کے خلاف ہیں ۔
سندھ کے اعتراضات
کالاباغ ڈیم پر سب سے زیادہ اور شدید اختلاف رائے صوبہ سندھ کا رہا ہے ۔ سندھ کے ڈیم بننے پر دو بڑے اعتراضات ہیں۔
1۔ دریائے سندھ میں زرعی پانی کی کمی : سندھ کی قیادت سمجھتی ہے کہ ڈیم بننے سے صوبہ سندھ کے حصے کا پانی کم ہوجائے گا جس کی وجہ سے سندھ کو پہلے سے کم پانی ملے گا ۔ ڈیزائن کے مطابق کالاباغ ڈیم میں ذخیرہ ہونے والا پانی نہروں کے ذریعے  پنجاب کی زمینوں کو سیراب کرے گا  ۔ سندھ کا اعتراض ہے کہ جب پانی تمام صوبوں کے لیے ذخیرہ کیا جائے گا تو پانی کا بہاؤ صرف پنجاب کے لیے ہی کیوں ہو ؟
سندھی عوام کالاباغ ڈیم کے شدید خلاف ہیں  
2۔ دریائے سندھ میں سمندر کے لیے پانی کی کمی :سندھ کا دوسرا اعتراض یہ ہے کہ دریائے سندھ کا پانی کم ہونے سے ساحل سمندر کے قریب کا علاقہ سمندری پانی کی لپیٹ میں آ کر برباد ہو جائے گا کیونکہ سمندری پانی کو سمندر میں محدود رکھنے کیلئے دریائے سندھ میں ایک خاص مقدار کے پانی کا بہنا انتہائی ضروری ہے ۔ دریائے سندھ میں پانی کم بہنے سے سمندر کا کھارا پانی سندھ میں داخل ہوگا جس سے لوگوں میں بیماریوں کے پھیلنے کا خطرہ ہوگا اور نمکین پانی سے فصلوں کو نقصان  پہنچے گا ۔  زمین میں نمک کی شرح  بڑھنے کی وجہ سے لاکھوں ایکڑ زمین کاشت کے قابل نہیں رہے گی   ۔ دریائے سندھ میں پانی کے بہاؤ میں کمی کی صورت میں ساحل سمندر پر موجود جنگلات ، زرعی زمین اور آبی حیات کو خطرات لاحق ہوسکتے ہیں جس کا منفی اثر ماحول پر بھی پڑے گا ۔ اس بند کی تعمیر صوبہ سندھ میں موجود جھیلوں میں پانی کی عدم دستیابی کا سبب بن کر منفی ماحولیاتی اثرات  اور آبی حیات کے لیے نقصان کا باعث بن سکتا ہے ۔ تربیلا اور منگلا ڈیم کی تعمیر سے صوبہ سندھ کو پہلے ہی پانی کی کمی کی شکایت ہے ۔
Mangrove Forest  سمندر کے نزدیک دریائے سندھ کے کنارے منگرو  کے جنگلات 
بلوچستان کے اعتراضات
جہاں تک بلو چستان کے تحفظات کا تعلق ہے تو انکا کہنا ہے کہ اگر کالاباغ ڈیم بن گیا تو اس سے بلو چستان کی پانی میں مزید کمی ہوگی کیوں کہ دریائے سندھ کی استعداد میں کمی آجائے گی جس کی وجہ سے بلو چستان کی مستقبل کی ضروریات پو را کر نے کے لئے پانی مہیا نہیں ہو گا۔ صوبہ سندھ    ،   بلوچستان کو پانی فراہم کرتا ہے اس لیے جب تک صوبہ سندھ  ڈیم کی تعمیر کے حق میں نہیں ہوگا تو بلوچستان بھی ڈیم کے حق میں کوئی فیصلہ نہیں سنا سکتا ہے ۔  اگرچہ بلوچستان کا صوبہ کالاباغ کی تعمیر سے براہراست متاثر نہیں ہوتا لیکن وہاں کے قوم پرست سردار اس منصوبے کو پنجاب کی چھوٹے صوبوں کے ساتھ زیادتی تصور کرتے ہیں ۔
پنجاب کا نقطہ نظر
پورے پاکستان میں پنجاب واحد صوبہ ہے جو ڈیم کی تمیر کے حق میں ہے۔ پنجاب کو ڈیم سے کئی ایک فائدے حاصل ہونگے جس کی وجہ سے وہاں کے سیاستدان  ڈیم بنانے کے لئے  سرتھوڑ کوششیں کر رہے ہیں ۔ ڈیم سے نہریں بنا کر پنجاب کے بہت سے علاقوں کو سیراب کیا جاسکے گا ۔ اس لیے ان زمینوں کے مالکین / وڈیرے (جو عموماً سیاستدان بھی ہیں ) ہر حالت میں ڈیم کی تعمیر چاہتے ہیں ۔ ڈیم سے بننے والی سستی بجلی موجودہ لوڈشیڈنگ کو کم کرنے میں مدد دے گی جس سے  پنجاب کے صنعتی شہروں میں کارخانے بھرپور طریقے سے چل پڑیں گے اور صنعتکاروں ( جو اسمبلی ممبران بھی ہیں ) کا منافع برقرار رہے گا ۔ کالاباغ ڈیم کے پانی کا ذخیرہ خیبر پختونخوا میں ہونے سے پنجاب کو ڈیم کی تعمیر سے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا جب کہ ڈیم کے ٹربائن پنجاب میں نصب کرکے اوپر سے  ڈیم کی رائیلٹی بھی حاصل ہوگی ۔ ڈیم میں ذخیرہ شدہ پانی (چاہے وہ سیلابی اور اضافی ہو یا دریائے سندھ کا اپنا ) پر پنجاب کا کنٹرول ہوگا اور وہ اسے اپنی مرضی اور ضرورت کے مطابق استعمال میں لاسکے گا ۔ صوبہ پنجاب میں کالا باغ واحد علاقہ ہے جہاں بڑا ڈیم تعمیر ہوسکتا ہے لہٰذا پنجاب اپنے زرعی پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے کالاباغ ڈیم کی پُرزور حمایت کرتا ہے ۔
دوسری طرف پنجاب کا دعویٰ ہے کہ پانی کی تقسیم کے فارمولے کے حساب سے پنجاب کا حصہ نہیں بڑھے  گا  بلکہ ڈیم کی تعمیر سے اُسے زمین اور جائیداد کا نقصان اٹھانا پڑے گا ۔
جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔ 
نوٹ:  قارےئین کرام کو اس بلاگ میں درج شدہ وضاحتوں سے اختلاف ، اس میں تصحیح اور وضاحتوں پر اعتراض کی مکمل آزادی ہے ۔

Wednesday, 1 July 2015

کالاباغ ڈیم (حصہ سوم ) تکنیکی حقائق ۔۔ (Urdu ) Kalabagh Dam (P III) Technical Facts


         پہلا حصہ      کالاباغ ڈیم -- بنیادی تعارف                       دوسرا حصہ     تاریخی حقائق   
پاکستان میں دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں پر مشتمل دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام قائم  ہے ۔ اس نظام کے تحت سالانہ اوسط  145 ملین ایکڑ فٹ پانی  دستیاب ہوتا ہے جس میں سے 75 ملین ایکڑ فٹ پانی زرعی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے ، 35 ملین ایکڑفٹ پانی بدانتظامی کا شکار  ہوتا ہے جبکہ بارشوں کے موسم میں مزید 35 ملین ایکڑ فٹ پانی استعمال میں لائے بغیر سمندر میں بہہ کر ضائع ہو جاتا ہے ۔
کالاباغ ڈیم
کالاباغ ڈیم دریائے سندھ پر تربیلا ڈیم   سے جنوب کی طرف دریا کے بہاؤ پر واقع ہے ۔  کالاباغ ڈیم کے ابتدائی سروے امریکی ماہرین نے 1956 اور 1967 میں کئے  جنہوں نے اس بند کو بہترین اور فائدہ مند قرار دیا ۔ واضح رہے کہ ابتدا میں اس منصوبے کا مقصد صرف زرعی مقاصد کے لیے  پانی ذخیرہ کرنا تھا۔ 1984 کی رپورٹ کے مطابق  کالاباغ ڈیم کی اونچائی 915 فٹ قرار پائی   اور ڈیم کی لمبائی 5 ہزار فٹ رکھی گئی ۔ ڈیم کی جھیل  52  ہزار مربع ایکڑ رقبہ پر مشتمل ہوگی  ۔  ڈیم کے جھیل سے متاثرہ  رقبے  میں قابلِ کاشت  رقبہ  18  ہزار  ایکڑ ہے  جبکہ  باقی  34  ہزار  ایکڑ  بنجر  زمین  پر  جھیل مشتمل  ہوگی ۔  کالا باغ ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 8 ملین ایکڑ فٹ ہوگی جبکہ قابل استعمال پانی کا ذخیرہ  6.1 ملین ایکڑ فٹ ہوگا ۔  بعض ماہرین کے مطابق دریائے سندھ میں اتنا وافر مقدار میں پانی موجود ہے کہ اس دریا پر 10 ڈیم بھی بنائے جاسکتے ہیں ۔  
 1984 کے اعداد شمار کے مطابق کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر لاگت کا  کُل  تخمینہ پانچ ارب ڈالر  لگا یا گیا تھا  مگر  اب  اس منصوبے پر لاگت کا تخمینہ 9 ارب ڈالر لگایا گیا ہے ۔ ماہرین کے مطابق  یہ ڈیم اپنی لاگت 5 سال میں پوری کرسکے گا ۔ کالاباغ ڈیم پر اب تک کئی کروڑ روپے خرچ ہوچکے ہیں ۔  یہ منصوبہ   6   سال کے قلیل عرصے میں مکمل ہوسکتا ہے ۔
کالاباغ ڈیم کے فوائد
یہ ڈیم  پاکستان کے  عوام کو درپیش دو بنیادی مسائل  یعنی توانائی (بجلی کی کمی ) اور آبپاشی کیلئے پانی کی قلت پر قابو پانے کیلئے ایک بہتر  اور پائیدار حل ہے ۔ اس کے علاوہ  کالاباغ ڈیم کی جھیل میں پانی جمع ہونے سے ماحول پر مثبت اثرات پڑ سکتے ہیں اورموسمی ماہرین کے مطابق کچھ عرصہ بعد قریبی اضلاع کے درجہ حرارت میں کمی اور بارشوں میں اضافے  کا امکان ہے ۔ ڈیم کی تعمیر  کے  دوران  تقریباً 35 ہزار افراد کو روزگار کے مواقع میسر ہونے کے علاہ اس ڈیم سے کئی اور  اقتصادی فائدے بھی حاصل  ہونگے  ۔
 زرعی فائدے
کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے بلاشبہ نہری پانی میں اضافہ ہوگا ۔ ماہرین کے مطابق زراعت کے لیے پانی حاصل کرنے کے لیے کالاباغ ڈیم کی سائٹ بہترین ہے ۔  کالاباغ ڈیم سے نہروں کے ذریعے ان علاقوں تک پانی پہنچایا جاسکے گا جہاں بصورت دیگر زراعت کے لیے پانی پہنچانا مشکل ہے ۔  مزید یہ کہ پاکستان کے  دریاؤں کا جو 35 ملین ایکڑ فٹ پانی ہر سال سمندر میں گر کر ضائع ہوجاتا  ہے تو کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے ضائع ہونے والے پانی سے  6.1 ملین ایکڑ فٹ کی بچت کی جاسکتی ہے جس سے  کئی لاکھ ایکڑ بنجر زمین قابل کاشت بنائی جاسکتی ہیں ۔ کالاباغ ڈیم نہ بننے کی وجہ سے پاکستان کی 24 لاکھ ایکڑ زمین بنجر پڑی ہے ۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے جنوبی علاقے ، سندھ کے زیریں علاقے اور بلوچستان کے مشرقی حصے اس ڈیم کے پانی کی بدولت قابل کاشت بنائے جاسکتے ہے ۔ ڈیم میں تین سال کے لیے پانی ذخیرہ کیا جاسکے گا ۔
پنجاب اور خیبر پختونخوا تو براہراست اس منصوبے  مصتفید ہونگے کیونکہ یہ ڈیم ان دونوں صوبوں کے بیچ واقع ہے ۔ جبکہ سندھ اور بلوچستان کی طرف خود بہ خود دریا کے پانی کا بہاؤ بنتا ہے ۔
کالا باغ ڈیم سے خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع (کرک ، بنوں ، لکی مروت ، ٹانک اور ڈیرہ اسمٰعیل خان) کو زرعی مقاصد کے لئے  مزید 20 لاکھ ایکڑ فٹ پانی مل سکے گا ۔ اس پانی سے جنوبی خیبر پختونخوا میں دریائے سندھ کی سطح سے بلندی پر واقع تقریباً 8 لاکھ ایکڑ زمین زیر کاشت آسکے گی ۔ کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے سندھ کو بھی اضافی 40 لاکھ ایکڑ فٹ پانی مہیا ہوگا ۔ سندھ میں خریف کی کاشت کے لیے پانی دستیاب ہوگا جس کی شدید قلت ہے ۔ سندھ کے ریگستانی علاقوں کی پیاس کالاباغ ڈیم سے بجھ سکے گی ۔ اس زرعی پانی سے سندھ کی 8 لاکھ ایکڑ زمین سیراب ہونے کے علاوہ سیم زدہ لاکھوں ایکڑ زمین قابل کاشت ہوجائے گی ۔ بلوچستان کو اس ڈیم سے 15 لاکھ ایکڑ فٹ پانی مل سکتا ہے جس سے مشرقی  بلوچستان کا تقیرباً 7 لاکھ ایکڑاضافی  رقبہ سیراب ہوسکے گا ۔ کالاباغ ڈیم سے پنجاب کو 22 لاکھ ایکڑ فٹ اضافی پانی ملے گا جس سے جنوبی پنجاب کی 6 لاکھ ایکڑ سے زیادہ زمین زیر کاشت آئیگی ۔
مندرجہ بال حقیقتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات میں کوئی ابہام باقی نہیں رہ جاتا کہ کالا باغ ڈیم جیسے فقید المثال منصوبہ سے ملک میں زرعی انقلاب آسکتا ہے ۔ اس ڈیم کی تعمیر سے ملکی زراعت کے علاوہ صنعت اور معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا ۔  1973 میں ورلڈ بینک کے ماہرین نے بھی  پاکستان کی آئندہ ترقی و خوشحالی کا دار و مدار کالاباغ ڈیم کو قرار دیا تھا ۔
بجلی کی پیداوار
زرعی مفادات کے علاوہ کالاباغ ڈیم سے 3600 میگاواٹ تک سستی بجلی حاصل کی جاسکے گی  جو ملک میں موجودہ   بجلی  کے شدید بحران کو کم کر سکتی ہے ۔ کالاباغ  ڈیم کی تعمیر سے تربیلا ڈیم  بھی بلا کسی خدشہ  کے پانی بہا کر بجلی پیدا کرسکے گا  اور یوں تربیلا ڈیم کی مکمل صلاحیت کے مطابق پیداوار جو پانی سمندر میں بہہ جانے  سے  بچانے کی وجہ سے کم  ہوتی ہے ، پوری ہوجائے گی ۔ تربیلا اور کالاباغ ڈیم کے مشترکہ عمل سے اضافی بجلی توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد لی جاسکے گی ۔

 اس کے علاوہ پاکستان کو سالانہ اربوں روپے کی مد میں نقصان اٹھانے  سے چھٹکارا ملے گا ۔  اب واپڈا تھرمل بجلی گھروں سے مہنگی بجلی خرید کر  مختلف کمپنیوں کے ذریعے صارفین کو سستے داموں فروخت کررہا ہے ، لہٰذا یہ اخراجات اضافی سرچارجز (اور سبسڈی) سے پورے کئے جارہے ہیں ۔ یاد رہے کہ ڈیموں کی تعمیر سے پانی کے ذخائر کے ساتھ پیدا ہونے والی بجلی تھرمل بجلی کے مقابلے میں بہت سستی ہوتی ہے ۔
سیلاب سے بچاؤ
ڈیم کی تعمیر سے ہر سال چھوٹے پیمانے کے سیلاب سے ہونیوالی تباہی سے بھی نجات مل سکتی ہے جس (سیلاب) سے ملکی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچتا ہے ۔ اس طرح کالاباغ ڈیم چند سالوں میں نہ صرف اپنی لاگت پوری کرسکتا ہے بلکہ جانی نقصان سے بچاؤ کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے ۔  عام طور پر سیلابی پانی کا بہاؤ آٹھ لاکھ کیوسک کے قریب ہوا کرتا  ہے  اور   کالا باغ ڈیم جھیل کے علاوہ دیگر متعدد چھوٹے ڈیموں کی تعمیر سے سیلابی پانی پر کافی حد تک قابو پایا جا نا بظاہر بعید از قیاس معلوم نہیں ہوتا ۔ اس کے علاوہ سیلابی پانی کو روک کر ذخیرہ کرنے سے پانی کا مثبت استعمال ہوسکے گا وگرنہ  ڈیم  نہ ہونے کی وجہ سے سیلابی پانی بغیر استعمال کئے بہہ کر سمندر میں گرجاتا ہے ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ تربیلا اور منگلا ڈیم میں مٹی بھرنے کی وجہ سے پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں  کمی آئی ہے  ۔
ڈیم کے نقصانات
اگرچہ کالا با غ ڈیم سے حاصل ہونے والے فوائد میں سیلاب سے بچاؤ ،  بجلی کی پیداوار اور زراعت کے لئے پانی کا ذخیرہ کرنا شامل ہیں ،لیکن ڈیم کی تعمیر سے ماحول پر پڑنے والے بعض مضر اثرات ،اس کے ذریعے ایک بڑی آبادی کی ممکنہ ہجرت ، زرعی زمینوں کا بنجر ہونا  اور ہزاروں ایکڑ مزید زمین  سیلاب  کی صورت میں متاثر ہوگی اور کئی دیہات زیر آب آیئنگے ۔ کالا باغ ڈیم سے خیبر پختونخوا اور پنجاب کے 2 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہونگے ۔ ان لوگوں کی جان ، مال اور جائیداد کو محفوظ کرنے کی ضرورت پڑے گی ۔ مزیدبرآں ان بے گھر لوگوں کی نفسیاتی بحالی بھی کرنی پڑی گی۔ ان چھوٹے اور قابل تصحیح نقصانات کے علاوہ کالاباغ ڈیم زیرزمین زلزلوں کی پٹی پر واقع ہے اور خدا ناخواستہ شدید زلزے میں ڈیم کی ساخت کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ واپڈا اور الیکٹرک سپلا ئی کا رپوریشنیں قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئی ہیں اور  کرپشن  و لائن لاسز کی وجہ سے  نقصان میں مبتلاء ہیں اس لئے ہائیڈل پراجیکٹس سے سستی بجلی پیدا کرنے کے ثمرات صارفین تک منتقل ہونا مشکل بات ہے۔

کالاباغ ڈیم بارش کے اضافی پانی کو قابو کرکے پھر استعمال میں لانے کے لئے تو فائدہ مند رہے گا لیکن وسیع پیمانے پر  سیلاب کی تباہ کاریوں کو کم کرنے میں برائے نام کارآمد رہے گا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان اور شمالی خیبر پختونخوا (ملاکنڈ اور ہزارہ) میں سیلاب کا نقصان پانی کے تیز بہاؤ (ڈھلوان زیادہ ہونے کی وجہ سے ) ہوتا ہے اور  سیلابی پانی کالاباغ کے مقام تک پہنچنے سے پہلے نقصان کرچکا ہوتا ہے ۔ لہٰذا ان علاقوں میں کالاباغ ڈیم کا سیلابی پانی  کو قابو کرنا عقل کے خلاف بات ہے ۔  دوسری طرف پنجاب کے دریا ( جہلم ، چناب ، راوی اور ستلج ) کالاباغ ڈیم سے جنوب کی طرف دریائے سندھ میں شامل ہوتے ہیں ۔ اب اگر ان دریاؤں میں پانی کا گزر کالاباغ کے مقام پر ہوتا ہی نہیں ہے تو  ڈیم ان دریاؤں میں آنے والے  سیلابی پانی پر کس طرح  اثر انداز ہوگا ؟ پنجاب کے دریاؤں میں یہی سیلابی پانی دریائے سندھ میں شامل ہوکر پھر مزید جنوب کی طرف پنجاب کے زیریں علاقوں اور صوبہ  سندھ میں سیلاب کا باعث بنتا ہے ۔
پنجاب کے دریا اور کالاباغ بند کا مجوزہ مقام

یہاں یہ بات  بھی قابل ذکر ہے کہ پو ری دنیا میں بڑے ڈیموں کی تعمیر کا رواج تقریباً ختم ہو رہا ہے ۔ چھوٹے اوردرمیانہ ڈیموں کی تعمیر پر توجہ دی جا رہی ہے ۔ کیونکہ ایک تو یہ دفاعی نو عیت سے محفوظ ہوتے ہیں اور دوسری ما حول دوست ہوتے ہیں ۔ موجودہ وقت میں  عالمی ادارے ماحولیاتی بگاڑ، لوگوں کے بے گھر ہو نے اور قدرتی آفات  کی وجہ سے بڑے ڈیموں کے تعمیر کی سفارش نہیں کرتے اور بڑے ڈیموں کی بجائے چھوٹے اور در میانہ ڈیموں کی تعمیر اور متبادل ذرائع توانائی کی فروع پرخصوصی توجہ دیے رہے ہیں ۔
 (نوٹ : کالاباغ ڈیم پر صوبوں کے اعتراضاب بلاگ کے اگلے (یعنی چوتھے ) حصے میں تفصیل سے درج کئے گئے ہیں ۔)
حرف آخر
ماضی میں بین الاقوامی  ماہرین نے کئی بار کالاباغ کا مکمل سروے کرنے کے بعد  اس  ڈیم کی تعمیر کی سفارش کی  اور  اس ڈیم کی تعمیر کو پاکستان کے لیے بہت اہم قرار دیا ہے ۔  ایک بات طے ہے کہ قوم کی اکثریت کا مجموعی تاثر یہی ہے کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر ملکی معیشت ،صنعت اورزراعت کی ترقی کیلئے انتہائی ضروری ہے اور یہ تاثر کوئی بے بنیاد اور بلا جواز بھی نظر نہیں آتا ۔
اب سوال یہ ہے کہ وہ  وجوہات   کون سی ہیں جس کی بنا پر  پاکستان کے تین چھوٹے صوبے اس ڈیم کی  شدید مخالفت کر رہے ہیں  اور  ان کی اس مخالفت کی وجہ سے کالاباغ ڈیم کی تعمیر آج تک ممکن نہیں ہوسکی ہے ۔  صوبوں کے اعتراضات بلاگ کے چوتھے حصے میں درج کئے گئے ہیں۔
جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔ 
اگلا حصہ  ڈیم کی تعمیر پر صوبوں کا نقطہ نظر                    پچھلا یعنی دوسرا حصہ --تاریخی حقائق
نوٹ : بلاگ میں درج شدہ اعداد و شمار مختلف ذرائع سے لیے گئے ہیں جو ماہرین کے اندازوں پر مشتمل ہیں لہٰذا یہ اعداد و شمار حتمی تصور نہ کئے جائیں ۔

Monday, 22 June 2015

کالاباغ ڈیم (حصہ دوم) "تاریخی حقائق" Kalabagh Dam (P II) Historical Facts


کالاباغ ڈیم کو سمجھنے کے لیے بلاگز کا سلسلہ - پہلا حصہ پڑھنے کے کے لئے یہاں کلک کریں ۔ 

پاکستان بننے سے پہلے ہی 1940 میں دریائے سندھ پر   کالاباغ کے مقام کو ڈیم کی تعمیر کے لیے مناسب قرار دیا گیا تھا ۔  قیام  پاکستان کے بعد قائد اعظم محمدعلی جناح نے بھی میانوالی کے قریب ڈیم بنانے کی ضرورت پر زور دیا تھا ۔ دسمبر 1948 میں پاکستان کی کابینہ نے میانوالی اور کرنافلی (مشرقی بنگال) میں جلد از جلد ڈیموں کی تعمیر کی سفارش کی ۔  کالا باغ ڈیم کے منصوبے کا پہلا باقاعدہ  سروے ورلڈ بینک کے تعاون سے ملک غلام محمد  (پاکستان کے تیسرے گورنر جنرل)  کے دور حکومت میں 1953ء میں شروع ہوا ۔ لیکن   آنے والے چند سالوں میں پاکستان سیاسی انتشار کا شکار رہا اور  ملک میں ڈیموں کی تعمیر کی طرف پیش رفت نہ ہوسکی ۔

سندھ طاس معاہدہ
آزادی  کے وقت پنجاب کی تقسیم سے نہری پانی کا مسئلہ پیداہ ہوا ۔ دریائے راوی اور ستلج کے ہیڈ ورکس بھارت میں واقع ہیں اور ان ہیڈ ورکس سے نکلنے والی نہریں پاکستانی علاقے  کو سیراب کرتی ہیں ۔ یکم  اپریل 1948 کو بھارت نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ان دریاؤں میں  پاکستان کی طرف آنے والا پانی بند کردیا ۔ حکومت پاکستان کی کوششوں سے یہ 
سندھ طاس معاہدہ -- کراچی 1960
مسئلہ عارضی طور سے حل ہوا ۔  
  یہ تنازعہ ستمبر  1960 میں اُس وقت مستقل بنیادوں پر حل ہوا جب ورلڈ بینک کے تعاون سے دونوں ملکوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا فیصلہ سندھ طاس معاہدے کے تحت ہوا ۔ 
اس معاہدے کی رُو سے دونوں ممالک کے درمیان چھ بڑے دریاؤں کی تقسیم عمل میں آئی  ۔  تین مغربی دریا یعنی دریائے سندھ ، جہلم اور  چناب پاکستان کے حصے میں آئے جبکہ تین مشرقی دریاؤں یعنی راوی ، ستلج اور بیاس  کے پانی پر بھارت کو حقدار قراردیا گیا ۔

اسی کے ساتھ ایک دوسرا معاہدہ سندھ طاس ترقیاتی فنڈ کے نام سے ہوا ۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان کو مشرقی دریاوں تک پانی کی ترسیل کے لیے مغربی نہروں سے رابطہ نہریں ، ڈیم اور ہنڈ ورکس قائم کرنے کے لیے مالی امداد اور  مشرقی دریاؤں میں دس سال تک پانی کا بہاؤ شامل تھا ۔ نتیجتاً پاکستان نے دو ڈیم (تربیلا اور منگلا) ، پانچ ہیڈ ورکس اور دریاؤں کے درمیان 400 کلومیٹر لمبی کئی  رابطہ نہریں تعمیر کیں ۔ جبکہ کالاباغ ڈیم کا منصوبہ متنازعہ ہونے کی وجہ سے التوا کا شکار رہا ۔

مختلف حکومتوں کے دور میں کالاباغ ڈیم کا منصوبہ
ایوب خان نے کالاباغ ڈیم پر کام شروع  کرنا چاہا لیکن منصوبے پر عملی کام نہ ہوسکا ۔ یحییٰ خان کے دور حکموت (1969 تا 1971) میں ملک کے سیاسی حالات ڈیم جیسے بڑے منصوبوں کو شروع کرنے کے  لیے سازگار نہیں تھے ۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں چونکہ منگلہ اور تربیلا ڈیم مکمل ہوچکے تھے اس لیے اس وقت ملک میں بجلی کی پیداوار ضرورت کے مقابلے میں وافر مقدار میں تھی جبکہ نئے تعمیر شدہ ڈیموں سے زرعی پانی کی کمی کو پورا کیا جارہا تھا ۔ بھٹو حکومت کی توجہ نئے آئین کے تحت  قومی اداروں کے قیام اور ان کے استحکام پر رہی ۔

1983  کے بعد
فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق نے 1983 میں کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا فیصلہ کیا ۔  ابتدائی امور  نپٹانے کے بعد اگلے سال ڈیم پر عملی کام آغاز ہوا اور 1987 تک اس کا تفصیلی سروے مکمل ہوا  اور  بنیادی امور جیسے رہائشی عمارات ، لیبارٹریاں اور ٹنل کی تعمیر کی گئی ۔ ابتدائی سروے رپورٹ میں اس ڈیم کی سطح سمندر سے اونچائی  1000 فٹ تھی ۔ بعد میں خیبر پختونخوا حکومت اور عوام کے اسرار پر (ضلع نوشہرہ کے ڈوبنے کے  خطرے کے پیش نظر ) اس کی اونچائی کم کرکے 915 فٹ کردی گئی ۔ شدید سیاسی اختلافات کی وجہ سے ڈیم کے سائٹ پر 1989 سے کام بند کردیا گیا ۔ ضیاءالق کی حکومت کے بعد اگلے گیارہ سالوں میں  پاکستان میں دو دفعہ پیپلز پارٹی اوردو دفعہ  مسلم لیگ ن کی جمہوری حکومتیں رہیں ۔ لیکن پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ کے عوام میں مقبول جماعت ہونے کی وجہ سے کبھی اس ڈیم کی تعمیر کا نہیں سوچا ۔  البتہ میاں نواز شریف نے اپنے دوسرے دور حکومت (1997 تا 1999) میں  کالاباغ ڈیم بنانے کا اعلان کیا مگر  بات اعلان سے  آگے نہ بڑھ سکی ۔
پانی کی تقسیم کا  معاہدہ  1991
1991 میں نواز شریف کے دورحکومت  میں صوبوں کے درمیان نہری  پانی کی تقسیم کا معاہدہ ہوا ۔    اس معاہدے کے تحت نہروں کے پانی کے استعمال کو تحفظ فراہم کیا گیا اور دریاؤں کے پانی  (جن میں سیلاب اور اضافی پانی بھی شامل ہے ) کی متوازن تقسیم کا نظام قائم کیا گیا ۔  1992  میں صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے  خود مختار ادارہ  انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) قایم کیا گیا ۔   بدقسمتی سے  معاہدے کے  کچھ ہی عرصے بعد سندھ اور پنجاب میں پانی کی تقسیم پر پھر اختلافات پیدا ہوگئے ۔
2000ء  کے  بعد
پرویز مشرف نے 2004 میں کالاباغ ڈیم کے تعمیر کی بات کی مگر چھوٹے صوبوں کی طرف سے شدید اختلافات کی وجہ سے پیشرفت نہ ہوسکی ۔ 2008 میں اُس وقت کے  وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف (پیپلز پارٹی) نے اختلاف رائے کے پیش نظر کالاباغ ڈیم نہ بنانے کا اعلان کردیا مگر 2010 کے سیلاب کی تباہ کاریوں نے کالاباغ ڈیم کی بحث ایک مرتبہ پھر تازہ کردی اور سیلاب کے نقصانات سے بچنے کے لیے کالاباغ ڈیم کی اہمیت کے حق اور مخالفت میں بیانات آنے شروع ہوئے ۔
نوشہرہ ، خیبر پختونخوا 30 جولائی 2010  ۔۔  2010 کے سیلاب کے دوران

2013  میں انتخابی مہم کے دوران مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے حکومت میں آکر کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے وعدے کئے ۔  لیکن حکومت کے قیام کے بعد میاں نواز شریف کی سوچ تبدیل ہوگئی  اور پچھلے سالوں کی طرح اس سال (جون 2015) میں منظور ہونے والے بجٹ میں  بھی کالاباغ منصوبے کو اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے  نظر انداز کردیا گیا  جبکہ پانی و بجلی کے دیگر منصوبوں کے لیے خطیر رقوم مختص کی گئی ہیں ۔ موجودہ وقت (جون  2015 ) میں صرف مسلم لیگ ق کے رہنما کالاباغ ڈیم کی حمایت میں مہم چلارہے ہیں ۔ مختلف جمہوری ادوار میں خیبر پختونخوا ، سندھ اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلیاں کالا باغ ڈیم کی مخلافت میں کئی بار قراردادیں منظور کرچکی ہیں جبکہ پنجاب اسمبلی نے ڈیم کے حق میں قرارداد منظور کی ہے ۔
عدالتی  کاوشیں  
گزشتہ دور حکومت میں   کالاباغ  ڈیم کی تعمیر کے لیے عدلیہ  کا سہارا  بھی  لیا جا چکا ہے تاکہ فنی اور سیاسی اختلافات  کو عدلیہ کی احکامات کے ذریعے حل کرنے  کی کوشش کی جائے ۔  نومبر 2012  میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے دائر کی گئی چھ درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ 1991 میں مشترکہ مفادات کونسل کی سفارش کی بنا پر وفاقی حکومت کالاباغ ڈیم کی تعمیر کی پابند ہے ۔  2014 میں لاہور ہائی کورٹ میں عدالت عالیہ کے احکامات کے باوجود کالاباغ ڈیم کی عدم تعمیر پر وزریراعظم اور چاروں وزرائے اعلیٰ کے خلاف توہیں عدالت کی درخواست بھی  دائر کی گئی ۔   جنوری 2015 میں سپریم کورٹ نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق دائر  درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ڈیم کی تعمیر کا حکم دینا  عدالت کا کام نہیں  بلکہ  حکومت کا کام ہے ۔
آئین اور بڑے ڈیموں کی تعمیر
اٹھارویں آئینی  ترمیم (منظور شدہ اپریل 2010) کے بعد آئین کے  آرٹیکل 157 کے تحت وفاقی حکومت کسی بھی صوبے میں پن بجلی کے پاور سٹیشن کی  تعمیر کا فیصلہ کرنے سے قبل متعلقہ صوبائی حکومت سے مشاورت  کرے گی ۔ مزید کہا گیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان تنازعہ کی صورت میں مشترکہ مفادات کونسل تنازعہ کا تصفیہ کرے گی ۔
حرف آخر
 پاکستانی قوم 1953 سے کالاباغ ڈیم  پر موجود اختلافات کے خاتمے کی منتظر ہے ۔ واضح رہے کہ سندھ ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کالاباغ ڈیم کے حوالے سے کافی تحفظات پائے جاتے ہیں اور  تینوں صوبوں  کی اسمبلیاں بھی کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے خلاف قرادادیں منظور کرا چکی ہیں ۔  جبکہ  پنجاب اسمبلی نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کالاباغ ڈیم کی فوری تعمیر کے لیے چاروں صوبوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرے کیونکہ کالا باغ ڈیم کا منصوبہ ناصرف قابل عمل ہے بلکہ ملک کے مفاد میں بھی ہے ۔
جاری ہے ۔ 


Sunday, 7 June 2015

کالا باغ ڈیم (حصہ اول ) تعارف ۔۔ Kalabagh Dam (P I) Introduction (Urdu)

کالاباغ ڈیم یا کالاباغ بند حکومتِ پاکستان کا پانی کو ذخیرہ کرکے بجلی کی پیداوار اور زرعی زمینوں کو سیراب کرنے کا ایک بڑا منصوبہ ہے ۔ کالاباغ ڈیم کا منصوبہ روز اول سے  ہی  متنازعہ ہونے کی وجہ سے تاحال  قابل عمل نہیں ہوسکا ہے ۔ پنجاب کے علاوہ پاکستان کے باقی صوبے اس ڈیم کی تعمیر کے شدید مخالف ہیں ۔  پاکستان اس وقت آبی بحران کے ساتھ ساتھ بجلی کے بحران کا بھی شکار ہے ۔ پاکستان میں منگلا اور تربیلا ڈیموں کی تعمیر کے 40 سے زائد سال مکمل ہوگئے ہیں اور اس عرصے میں ہماری پانی اور بجلی کی ضروریات کئی گنا بڑھ چکی ہیں ۔ ایسے حالات میں پاکستان کے لیے ایک بڑے ڈیم کی تعمیر نہایت ضروری ہے ۔ لیکن اشد ضرورت کے باوجود  بھی کالاباغ ڈیم کے حق میں رائے عامہ ہموار نہ ہوسکی ہے ۔ کالاباغ ڈیم کیا ہے ؟ اس کے حق اور مخالفت میں کیا دلائل دئے جاتے ہیں ؟ کالاباغ ڈیم جو ایک تکنیکی مسئلہ ہے ، آخر کیوں سیاست کا شکار ہوا ؟ خیبر پختونخوا ، سندھ اور بلوچستان کی صوبائی حکومتوں کا کیا مؤقف رہا ہے ؟ کیا مستقبل میں کالاباغ ڈیم پر عوامی رائے ہموار ہونے کے امکانات ہیں ؟  ان تمام سوالات کے جوابات اس سلسلہ وار بلاگ میں تلاش کئے جارہے ہیں  ۔ بلاگ کے اس پہلے تعارفی حصے میں کالاباغ ڈیم سے متعلقہ  اصطلاحات کی مختصر وضاحت کی گئی ہے ۔  

کالاباغ :
کالاباغ ایک قصبے (اور یونین کونسل) کا نام ہے جو ضلع میانوالی کی تحصیل عیسیٰ خیل میں واقع ہے اور  کالاباغ ڈیم کا مجوزہ مقام بھی ہے ۔  کالاباغ ڈیم کے منصوبے کا مقام میانوالی شہر سے 40 کلومیٹر شمال کی طرف واقع ہے ۔  کالاباغ دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر واقع ہے ۔ پشتو زبان میں گاؤں یا ڈھوک کے لیے 'کلے' کا لفظ استعمال ہوتا ہے (کرک اور بنوں وغیرہ میں کلے کا تلفظ ' کلا'  ہے ) لہٰذا کالاباغ کا مطلب 'باغ گاؤں' ہے ۔ بہت سے لکھاری کالاباغ ڈیم پر لکھتے ہوئے اس کو' کالے باغ ' سے تعبیر کرتے ہیں جو 
کہ زیادہ مستند نظر نہیں آتا۔ 

 کالاباغ کی زیادہ تر آبادی خٹک ، نیازی اور اعوان قبائل پر مشتمل ہے ۔ کالاباغ محمود غزنوی کے زمانے سے ایک جاگیردارانہ ریاست رہی ہے ۔ اگرچہ انگریزوں نے کالاباغ کو شاہی ریاست کا درجہ نہیں دیا۔ ایوب خان دور حکومت میں زرعی اصلاحات کے تحت کالاباغ کے نواب نے اپنی جائیداد میں سے ایک بڑا رقبہ کمیشن کے سپرد کیا ۔ 1967 میں کالاباغ کے نواب ملک امیر محمد خان (گورنر مغربی پاکستان) کی وفات سے نواب کے خطاب کا خاتمہ بھی ہوا ۔ کالاباغ کا خطہ اپنے پڑوسی علاقوں کی طرح سطح مرتفع پوٹھوہار کی سرخ پہاڑیوں اور کوہستان نمک کے سلسلے پر مشتمل ہے ۔  
پاکستان

ڈیم ، بیراج  اور  ہیڈورکس:
ڈیم ( اردو زبان میں بند یا باند ) پانی کا وہ ذخیرہ ہوتا ہے جسے کے ذریعے  بہتے پانی کو روک کر ذخیرہ کیا جاتا  ہے تاکہ یہی پانی حسب منشاء استعمال میں لایا جاسکے ۔ ڈیم سیلاب کے تباہ کاریوں کو کم کرتا ہے ۔  ذخیرہ شدہ  پانی پھر ضرورت کے تحت آبپاشی اور دوسرے انسانی ضروریات کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ پانی کے تیز بہاؤ سے پن بجلی بھی پیدا ہوسکتی ہے ۔ بیراج سے  پانی کے بہاؤ کو روک کر اس کی سطح بلند کی جاتی ہے تاکہ پانی کے رُخ کو موڑ کر حسب ضرورت نہروں میں بہایا جاسکے ۔ ہیڈورکس بھی پانی کے بہاؤ کا رُخ موڑنے کے لیے تعمیر کیا جاتا ہے تاکہ دریا کا پانی نہر میں ضرورت کے حساب سے بہایا جاسکے ۔ تاہم ہیڈورکس تعمیر کے لحاظ سے بیراج سے چھوٹے پیمانے پر ہوتا ہے ۔

ضلع میانوالی :
 ضلع میانوالی صوبہ پنجاب کے شمال مغرب میں دریائے سندھ کے دونوں اطراف واقع ہے ۔  1901 میں شمال مغربی سرحدی صوبہ بناتے وقت میانوالی کا ضلع بنایا گیا اور اس کو ملتان ڈویژن (صوبہ پنجاب ) کا حصہ بنا دیا گیا ۔ ( یاد رہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ضلعوں اور ڈویژنوں کی تعداد بڑھتی گئی اورجب 2000ء میں تمام ڈویژن ختم کئے جارہے تھے تو اس وقت ضلع میانوالی سرگودھا ڈویژن کا حصہ تھا ) ۔  دریائے سندھ ضلع میانوالی میں شمال سے جنوب کی طرف بہتے ہوئے ضلع کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے ۔

انگریز دورِ حکومت سے پہلے میانوالی کے علاقے ضلع بنوں کا حصہ تھے ۔ 1901 میں میانوالی کو ضلع بنوں اور ڈیرہ اسمٰعیل خان ڈویژن سے کاٹ کر صوبہ پنجاب کا حصہ بنایا گیا ۔ قیام پاکستان کے بعد 1955 میں جب ون یونٹ سکیم کے تحت مغربی پاکستان کے تمام انتظامی یونٹوں کو اکھٹا کیا گیا اور چار صوبوں کی جگہ ایک صوبہ 'مغربی پاکستان'  قایم کیا گیا تو مغربی پاکستان کو 12 ڈویژنوں میں تقسیم کیا گیا اور میانوالی  کو ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن کا حصہ بنایا گیا۔  یہ سسٹم جون 1970 تک چلتا رہا ۔

ضلع میانوالی کا کل رقبہ 5840 مربع کلومیٹر ہے ۔  اس ضلع میں تین تحصیلیں میانوالی ، عیسیٰ خیل اور پپلاں ہیں ۔  مرکزی شہر  میانوالی کے علاوہ عیسیٰ خیل اس ضلع کا مشہور شہرہے ۔  سطح سمندر سے اوسط بلندی  200 میٹر یا 690 فٹ ہے ۔

میانوالی کے شمال میں اٹک  اور کوہاٹ ، جنوب میں بھکر  ، مشرق میں چھکوال اور خوشاب جبکہ مغرب میں ضلع کرک ، لکی مروت اور ڈیرہ اسمٰعیل خان واقع ہیں ۔ ضلع میانوالی کی تحصیل عیسیٰ خیل (جہاں کالاباغ واقع ہے ) صوبہ پنجاب کا خیبر پختونخوا سے متصلہ واحد علاقہ ہے جو دریائے سندھ کے مغرب کی طرف واقع ہے  ۔

دریائے سندھ :
دریائے سندھ پاکستان کا سب سے بڑا اور اہم دریا ہے ۔ یہ عظیم  دریا تبت سے شروع ہوکر شمال میں گلگت بلتستان کے راستے خیبر پختونخواہ میں سے گزرتا ہے  ۔ خیبر پختونخوا کا ہزارہ ڈویژن اس دریا کے مشرق کی طرف واقع ہے ، جبکہ صوبہ کے باقی تمام اضلاع دریائے سندھ کے مغرب کی طرف واقع ہیں ۔ دریائے سندھ خیبر پختونخوا کے پہاڑوں سے اُتر کر پنجاب اور سندھ کے میدانوں سے ہوتا ہوا پاکستان کے جنوب میں  ضلع حیدرآباد سے ہوتا ہوا ٹھٹہ کے قریب بحیرہ عرب میں شامل ہوجاتا ہے ۔

تربیلا  ڈیم
دریائے سندھ پر تربیلا (ضلر ہری پور، خیبر پختونخوا) کے مقام پر ایک بڑا ڈیم بنایا گیا ہے جو موجودہ وقت میں دریائے سندھ پر تعمیر شدہ واحد بڑا  ڈیم ہے ۔ اس کے علاوہ غازی بروتھا (غازی – بمقام تربیلا اور بروتھا— ممقام اٹک) جاری پانی کا   پراجیکٹ بھی دریائے سندھ پر واقع ہے ۔ خیبر پختونخوا میں ضلع مانسہرہ میں اسی دریا پر الائی خوڑ ، شانگلہ میں خان خوڑ اور کوہستان میں ڈوبڑ خوڑ  کے نام سے چھوٹے ڈیم بنا کر بجلی پیدا کی جارہی ہے ۔  

دریائے سندھ پر تعمیر شدہ بیراج اور ڈیم
دریائے سندھ پر کالاباغ کے قریب جناح بیراج تعمیر کیا گیا ہے ۔ جو آپباشی کے علاوہ 96 میگاواٹ بجلی بھی پیدا کرتا ہے ۔ چشمہ بیراج بھی اسی دریا پر میانوالی میں کالاباغ ہی کے قریب واقع ہے ۔ یہ بیراج پاکستان میں پا نی کا تیسرا بڑا ذخیرہ ہے ۔ اس  بیراج سے آبپاشی ، سیلابی پانی کو روکنے کے علاوہ 184 میگاواٹ بجلی بھی پیدا ہوتی ہے ۔ چشمہ ہی کے مقام پر دریائے سندھ پر ایک چھوٹے سے ڈیم کی بدولت قلیل مقدار میں بجلی پیدا کی جارہی ہے ۔ اس کے علاوہ دریائے سندھ پر تونسہ بیراج (ضلع مظفر گڑھ ، پنجاب) ، گدو بیراج (ضلع کشمور ، صوبہ سندھ ) ، سکھر بیراج (سکھر ، صوبہ سندھ) اور کوٹری بیراج (حیدرآباد ، صوبہ سندھ ) واقع ہیں ۔

اس کے علاوہ دریائے سندھ پر گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے مختلف مقامات پر کئی ایک چھوٹے بڑے ہائیڈل پراجیکٹ شروع کرائے گئے ہیں ۔