Wednesday, 1 July 2015

کالاباغ ڈیم (حصہ سوم ) تکنیکی حقائق ۔۔ (Urdu ) Kalabagh Dam (P III) Technical Facts


         پہلا حصہ      کالاباغ ڈیم -- بنیادی تعارف                       دوسرا حصہ     تاریخی حقائق   
پاکستان میں دریائے سندھ اور اس کے معاون دریاؤں پر مشتمل دنیا کا سب سے بڑا نہری نظام قائم  ہے ۔ اس نظام کے تحت سالانہ اوسط  145 ملین ایکڑ فٹ پانی  دستیاب ہوتا ہے جس میں سے 75 ملین ایکڑ فٹ پانی زرعی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے ، 35 ملین ایکڑفٹ پانی بدانتظامی کا شکار  ہوتا ہے جبکہ بارشوں کے موسم میں مزید 35 ملین ایکڑ فٹ پانی استعمال میں لائے بغیر سمندر میں بہہ کر ضائع ہو جاتا ہے ۔
کالاباغ ڈیم
کالاباغ ڈیم دریائے سندھ پر تربیلا ڈیم   سے جنوب کی طرف دریا کے بہاؤ پر واقع ہے ۔  کالاباغ ڈیم کے ابتدائی سروے امریکی ماہرین نے 1956 اور 1967 میں کئے  جنہوں نے اس بند کو بہترین اور فائدہ مند قرار دیا ۔ واضح رہے کہ ابتدا میں اس منصوبے کا مقصد صرف زرعی مقاصد کے لیے  پانی ذخیرہ کرنا تھا۔ 1984 کی رپورٹ کے مطابق  کالاباغ ڈیم کی اونچائی 915 فٹ قرار پائی   اور ڈیم کی لمبائی 5 ہزار فٹ رکھی گئی ۔ ڈیم کی جھیل  52  ہزار مربع ایکڑ رقبہ پر مشتمل ہوگی  ۔  ڈیم کے جھیل سے متاثرہ  رقبے  میں قابلِ کاشت  رقبہ  18  ہزار  ایکڑ ہے  جبکہ  باقی  34  ہزار  ایکڑ  بنجر  زمین  پر  جھیل مشتمل  ہوگی ۔  کالا باغ ڈیم میں پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت 8 ملین ایکڑ فٹ ہوگی جبکہ قابل استعمال پانی کا ذخیرہ  6.1 ملین ایکڑ فٹ ہوگا ۔  بعض ماہرین کے مطابق دریائے سندھ میں اتنا وافر مقدار میں پانی موجود ہے کہ اس دریا پر 10 ڈیم بھی بنائے جاسکتے ہیں ۔  
 1984 کے اعداد شمار کے مطابق کالاباغ ڈیم کی تعمیر پر لاگت کا  کُل  تخمینہ پانچ ارب ڈالر  لگا یا گیا تھا  مگر  اب  اس منصوبے پر لاگت کا تخمینہ 9 ارب ڈالر لگایا گیا ہے ۔ ماہرین کے مطابق  یہ ڈیم اپنی لاگت 5 سال میں پوری کرسکے گا ۔ کالاباغ ڈیم پر اب تک کئی کروڑ روپے خرچ ہوچکے ہیں ۔  یہ منصوبہ   6   سال کے قلیل عرصے میں مکمل ہوسکتا ہے ۔
کالاباغ ڈیم کے فوائد
یہ ڈیم  پاکستان کے  عوام کو درپیش دو بنیادی مسائل  یعنی توانائی (بجلی کی کمی ) اور آبپاشی کیلئے پانی کی قلت پر قابو پانے کیلئے ایک بہتر  اور پائیدار حل ہے ۔ اس کے علاوہ  کالاباغ ڈیم کی جھیل میں پانی جمع ہونے سے ماحول پر مثبت اثرات پڑ سکتے ہیں اورموسمی ماہرین کے مطابق کچھ عرصہ بعد قریبی اضلاع کے درجہ حرارت میں کمی اور بارشوں میں اضافے  کا امکان ہے ۔ ڈیم کی تعمیر  کے  دوران  تقریباً 35 ہزار افراد کو روزگار کے مواقع میسر ہونے کے علاہ اس ڈیم سے کئی اور  اقتصادی فائدے بھی حاصل  ہونگے  ۔
 زرعی فائدے
کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے بلاشبہ نہری پانی میں اضافہ ہوگا ۔ ماہرین کے مطابق زراعت کے لیے پانی حاصل کرنے کے لیے کالاباغ ڈیم کی سائٹ بہترین ہے ۔  کالاباغ ڈیم سے نہروں کے ذریعے ان علاقوں تک پانی پہنچایا جاسکے گا جہاں بصورت دیگر زراعت کے لیے پانی پہنچانا مشکل ہے ۔  مزید یہ کہ پاکستان کے  دریاؤں کا جو 35 ملین ایکڑ فٹ پانی ہر سال سمندر میں گر کر ضائع ہوجاتا  ہے تو کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے ضائع ہونے والے پانی سے  6.1 ملین ایکڑ فٹ کی بچت کی جاسکتی ہے جس سے  کئی لاکھ ایکڑ بنجر زمین قابل کاشت بنائی جاسکتی ہیں ۔ کالاباغ ڈیم نہ بننے کی وجہ سے پاکستان کی 24 لاکھ ایکڑ زمین بنجر پڑی ہے ۔ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے جنوبی علاقے ، سندھ کے زیریں علاقے اور بلوچستان کے مشرقی حصے اس ڈیم کے پانی کی بدولت قابل کاشت بنائے جاسکتے ہے ۔ ڈیم میں تین سال کے لیے پانی ذخیرہ کیا جاسکے گا ۔
پنجاب اور خیبر پختونخوا تو براہراست اس منصوبے  مصتفید ہونگے کیونکہ یہ ڈیم ان دونوں صوبوں کے بیچ واقع ہے ۔ جبکہ سندھ اور بلوچستان کی طرف خود بہ خود دریا کے پانی کا بہاؤ بنتا ہے ۔
کالا باغ ڈیم سے خیبر پختونخوا کے جنوبی اضلاع (کرک ، بنوں ، لکی مروت ، ٹانک اور ڈیرہ اسمٰعیل خان) کو زرعی مقاصد کے لئے  مزید 20 لاکھ ایکڑ فٹ پانی مل سکے گا ۔ اس پانی سے جنوبی خیبر پختونخوا میں دریائے سندھ کی سطح سے بلندی پر واقع تقریباً 8 لاکھ ایکڑ زمین زیر کاشت آسکے گی ۔ کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے سندھ کو بھی اضافی 40 لاکھ ایکڑ فٹ پانی مہیا ہوگا ۔ سندھ میں خریف کی کاشت کے لیے پانی دستیاب ہوگا جس کی شدید قلت ہے ۔ سندھ کے ریگستانی علاقوں کی پیاس کالاباغ ڈیم سے بجھ سکے گی ۔ اس زرعی پانی سے سندھ کی 8 لاکھ ایکڑ زمین سیراب ہونے کے علاوہ سیم زدہ لاکھوں ایکڑ زمین قابل کاشت ہوجائے گی ۔ بلوچستان کو اس ڈیم سے 15 لاکھ ایکڑ فٹ پانی مل سکتا ہے جس سے مشرقی  بلوچستان کا تقیرباً 7 لاکھ ایکڑاضافی  رقبہ سیراب ہوسکے گا ۔ کالاباغ ڈیم سے پنجاب کو 22 لاکھ ایکڑ فٹ اضافی پانی ملے گا جس سے جنوبی پنجاب کی 6 لاکھ ایکڑ سے زیادہ زمین زیر کاشت آئیگی ۔
مندرجہ بال حقیقتوں کو مدنظر رکھتے ہوئے اس بات میں کوئی ابہام باقی نہیں رہ جاتا کہ کالا باغ ڈیم جیسے فقید المثال منصوبہ سے ملک میں زرعی انقلاب آسکتا ہے ۔ اس ڈیم کی تعمیر سے ملکی زراعت کے علاوہ صنعت اور معیشت کو بھی فائدہ پہنچے گا ۔  1973 میں ورلڈ بینک کے ماہرین نے بھی  پاکستان کی آئندہ ترقی و خوشحالی کا دار و مدار کالاباغ ڈیم کو قرار دیا تھا ۔
بجلی کی پیداوار
زرعی مفادات کے علاوہ کالاباغ ڈیم سے 3600 میگاواٹ تک سستی بجلی حاصل کی جاسکے گی  جو ملک میں موجودہ   بجلی  کے شدید بحران کو کم کر سکتی ہے ۔ کالاباغ  ڈیم کی تعمیر سے تربیلا ڈیم  بھی بلا کسی خدشہ  کے پانی بہا کر بجلی پیدا کرسکے گا  اور یوں تربیلا ڈیم کی مکمل صلاحیت کے مطابق پیداوار جو پانی سمندر میں بہہ جانے  سے  بچانے کی وجہ سے کم  ہوتی ہے ، پوری ہوجائے گی ۔ تربیلا اور کالاباغ ڈیم کے مشترکہ عمل سے اضافی بجلی توانائی کے بحران پر قابو پانے میں مدد لی جاسکے گی ۔

 اس کے علاوہ پاکستان کو سالانہ اربوں روپے کی مد میں نقصان اٹھانے  سے چھٹکارا ملے گا ۔  اب واپڈا تھرمل بجلی گھروں سے مہنگی بجلی خرید کر  مختلف کمپنیوں کے ذریعے صارفین کو سستے داموں فروخت کررہا ہے ، لہٰذا یہ اخراجات اضافی سرچارجز (اور سبسڈی) سے پورے کئے جارہے ہیں ۔ یاد رہے کہ ڈیموں کی تعمیر سے پانی کے ذخائر کے ساتھ پیدا ہونے والی بجلی تھرمل بجلی کے مقابلے میں بہت سستی ہوتی ہے ۔
سیلاب سے بچاؤ
ڈیم کی تعمیر سے ہر سال چھوٹے پیمانے کے سیلاب سے ہونیوالی تباہی سے بھی نجات مل سکتی ہے جس (سیلاب) سے ملکی معیشت کو اربوں روپے کا نقصان پہنچتا ہے ۔ اس طرح کالاباغ ڈیم چند سالوں میں نہ صرف اپنی لاگت پوری کرسکتا ہے بلکہ جانی نقصان سے بچاؤ کا ذریعہ بھی بن سکتا ہے ۔  عام طور پر سیلابی پانی کا بہاؤ آٹھ لاکھ کیوسک کے قریب ہوا کرتا  ہے  اور   کالا باغ ڈیم جھیل کے علاوہ دیگر متعدد چھوٹے ڈیموں کی تعمیر سے سیلابی پانی پر کافی حد تک قابو پایا جا نا بظاہر بعید از قیاس معلوم نہیں ہوتا ۔ اس کے علاوہ سیلابی پانی کو روک کر ذخیرہ کرنے سے پانی کا مثبت استعمال ہوسکے گا وگرنہ  ڈیم  نہ ہونے کی وجہ سے سیلابی پانی بغیر استعمال کئے بہہ کر سمندر میں گرجاتا ہے ۔ یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ تربیلا اور منگلا ڈیم میں مٹی بھرنے کی وجہ سے پانی ذخیرہ کرنے کی گنجائش میں  کمی آئی ہے  ۔
ڈیم کے نقصانات
اگرچہ کالا با غ ڈیم سے حاصل ہونے والے فوائد میں سیلاب سے بچاؤ ،  بجلی کی پیداوار اور زراعت کے لئے پانی کا ذخیرہ کرنا شامل ہیں ،لیکن ڈیم کی تعمیر سے ماحول پر پڑنے والے بعض مضر اثرات ،اس کے ذریعے ایک بڑی آبادی کی ممکنہ ہجرت ، زرعی زمینوں کا بنجر ہونا  اور ہزاروں ایکڑ مزید زمین  سیلاب  کی صورت میں متاثر ہوگی اور کئی دیہات زیر آب آیئنگے ۔ کالا باغ ڈیم سے خیبر پختونخوا اور پنجاب کے 2 لاکھ سے زیادہ افراد بے گھر ہونگے ۔ ان لوگوں کی جان ، مال اور جائیداد کو محفوظ کرنے کی ضرورت پڑے گی ۔ مزیدبرآں ان بے گھر لوگوں کی نفسیاتی بحالی بھی کرنی پڑی گی۔ ان چھوٹے اور قابل تصحیح نقصانات کے علاوہ کالاباغ ڈیم زیرزمین زلزلوں کی پٹی پر واقع ہے اور خدا ناخواستہ شدید زلزے میں ڈیم کی ساخت کو نقصان پہنچ سکتا ہے ۔ ایک رائے یہ بھی ہے کہ واپڈا اور الیکٹرک سپلا ئی کا رپوریشنیں قرضوں کے بوجھ تلے دبے ہوئی ہیں اور  کرپشن  و لائن لاسز کی وجہ سے  نقصان میں مبتلاء ہیں اس لئے ہائیڈل پراجیکٹس سے سستی بجلی پیدا کرنے کے ثمرات صارفین تک منتقل ہونا مشکل بات ہے۔

کالاباغ ڈیم بارش کے اضافی پانی کو قابو کرکے پھر استعمال میں لانے کے لئے تو فائدہ مند رہے گا لیکن وسیع پیمانے پر  سیلاب کی تباہ کاریوں کو کم کرنے میں برائے نام کارآمد رہے گا ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ گلگت بلتستان اور شمالی خیبر پختونخوا (ملاکنڈ اور ہزارہ) میں سیلاب کا نقصان پانی کے تیز بہاؤ (ڈھلوان زیادہ ہونے کی وجہ سے ) ہوتا ہے اور  سیلابی پانی کالاباغ کے مقام تک پہنچنے سے پہلے نقصان کرچکا ہوتا ہے ۔ لہٰذا ان علاقوں میں کالاباغ ڈیم کا سیلابی پانی  کو قابو کرنا عقل کے خلاف بات ہے ۔  دوسری طرف پنجاب کے دریا ( جہلم ، چناب ، راوی اور ستلج ) کالاباغ ڈیم سے جنوب کی طرف دریائے سندھ میں شامل ہوتے ہیں ۔ اب اگر ان دریاؤں میں پانی کا گزر کالاباغ کے مقام پر ہوتا ہی نہیں ہے تو  ڈیم ان دریاؤں میں آنے والے  سیلابی پانی پر کس طرح  اثر انداز ہوگا ؟ پنجاب کے دریاؤں میں یہی سیلابی پانی دریائے سندھ میں شامل ہوکر پھر مزید جنوب کی طرف پنجاب کے زیریں علاقوں اور صوبہ  سندھ میں سیلاب کا باعث بنتا ہے ۔
پنجاب کے دریا اور کالاباغ بند کا مجوزہ مقام

یہاں یہ بات  بھی قابل ذکر ہے کہ پو ری دنیا میں بڑے ڈیموں کی تعمیر کا رواج تقریباً ختم ہو رہا ہے ۔ چھوٹے اوردرمیانہ ڈیموں کی تعمیر پر توجہ دی جا رہی ہے ۔ کیونکہ ایک تو یہ دفاعی نو عیت سے محفوظ ہوتے ہیں اور دوسری ما حول دوست ہوتے ہیں ۔ موجودہ وقت میں  عالمی ادارے ماحولیاتی بگاڑ، لوگوں کے بے گھر ہو نے اور قدرتی آفات  کی وجہ سے بڑے ڈیموں کے تعمیر کی سفارش نہیں کرتے اور بڑے ڈیموں کی بجائے چھوٹے اور در میانہ ڈیموں کی تعمیر اور متبادل ذرائع توانائی کی فروع پرخصوصی توجہ دیے رہے ہیں ۔
 (نوٹ : کالاباغ ڈیم پر صوبوں کے اعتراضاب بلاگ کے اگلے (یعنی چوتھے ) حصے میں تفصیل سے درج کئے گئے ہیں ۔)
حرف آخر
ماضی میں بین الاقوامی  ماہرین نے کئی بار کالاباغ کا مکمل سروے کرنے کے بعد  اس  ڈیم کی تعمیر کی سفارش کی  اور  اس ڈیم کی تعمیر کو پاکستان کے لیے بہت اہم قرار دیا ہے ۔  ایک بات طے ہے کہ قوم کی اکثریت کا مجموعی تاثر یہی ہے کہ کالا باغ ڈیم کی تعمیر ملکی معیشت ،صنعت اورزراعت کی ترقی کیلئے انتہائی ضروری ہے اور یہ تاثر کوئی بے بنیاد اور بلا جواز بھی نظر نہیں آتا ۔
اب سوال یہ ہے کہ وہ  وجوہات   کون سی ہیں جس کی بنا پر  پاکستان کے تین چھوٹے صوبے اس ڈیم کی  شدید مخالفت کر رہے ہیں  اور  ان کی اس مخالفت کی وجہ سے کالاباغ ڈیم کی تعمیر آج تک ممکن نہیں ہوسکی ہے ۔  صوبوں کے اعتراضات بلاگ کے چوتھے حصے میں درج کئے گئے ہیں۔
جاری ہے ۔ ۔ ۔ ۔ 
اگلا حصہ  ڈیم کی تعمیر پر صوبوں کا نقطہ نظر                    پچھلا یعنی دوسرا حصہ --تاریخی حقائق
نوٹ : بلاگ میں درج شدہ اعداد و شمار مختلف ذرائع سے لیے گئے ہیں جو ماہرین کے اندازوں پر مشتمل ہیں لہٰذا یہ اعداد و شمار حتمی تصور نہ کئے جائیں ۔

Monday, 22 June 2015

کالاباغ ڈیم (حصہ دوم) "تاریخی حقائق" Kalabagh Dam (P II) Historical Facts


کالاباغ ڈیم کو سمجھنے کے لیے بلاگز کا سلسلہ - پہلا حصہ پڑھنے کے کے لئے یہاں کلک کریں ۔ 

پاکستان بننے سے پہلے ہی 1940 میں دریائے سندھ پر   کالاباغ کے مقام کو ڈیم کی تعمیر کے لیے مناسب قرار دیا گیا تھا ۔  قیام  پاکستان کے بعد قائد اعظم محمدعلی جناح نے بھی میانوالی کے قریب ڈیم بنانے کی ضرورت پر زور دیا تھا ۔ دسمبر 1948 میں پاکستان کی کابینہ نے میانوالی اور کرنافلی (مشرقی بنگال) میں جلد از جلد ڈیموں کی تعمیر کی سفارش کی ۔  کالا باغ ڈیم کے منصوبے کا پہلا باقاعدہ  سروے ورلڈ بینک کے تعاون سے ملک غلام محمد  (پاکستان کے تیسرے گورنر جنرل)  کے دور حکومت میں 1953ء میں شروع ہوا ۔ لیکن   آنے والے چند سالوں میں پاکستان سیاسی انتشار کا شکار رہا اور  ملک میں ڈیموں کی تعمیر کی طرف پیش رفت نہ ہوسکی ۔

سندھ طاس معاہدہ
آزادی  کے وقت پنجاب کی تقسیم سے نہری پانی کا مسئلہ پیداہ ہوا ۔ دریائے راوی اور ستلج کے ہیڈ ورکس بھارت میں واقع ہیں اور ان ہیڈ ورکس سے نکلنے والی نہریں پاکستانی علاقے  کو سیراب کرتی ہیں ۔ یکم  اپریل 1948 کو بھارت نے بغیر کسی پیشگی اطلاع کے ان دریاؤں میں  پاکستان کی طرف آنے والا پانی بند کردیا ۔ حکومت پاکستان کی کوششوں سے یہ 
سندھ طاس معاہدہ -- کراچی 1960
مسئلہ عارضی طور سے حل ہوا ۔  
  یہ تنازعہ ستمبر  1960 میں اُس وقت مستقل بنیادوں پر حل ہوا جب ورلڈ بینک کے تعاون سے دونوں ملکوں کے درمیان پانی کی تقسیم کا فیصلہ سندھ طاس معاہدے کے تحت ہوا ۔ 
اس معاہدے کی رُو سے دونوں ممالک کے درمیان چھ بڑے دریاؤں کی تقسیم عمل میں آئی  ۔  تین مغربی دریا یعنی دریائے سندھ ، جہلم اور  چناب پاکستان کے حصے میں آئے جبکہ تین مشرقی دریاؤں یعنی راوی ، ستلج اور بیاس  کے پانی پر بھارت کو حقدار قراردیا گیا ۔

اسی کے ساتھ ایک دوسرا معاہدہ سندھ طاس ترقیاتی فنڈ کے نام سے ہوا ۔ اس معاہدے کے تحت پاکستان کو مشرقی دریاوں تک پانی کی ترسیل کے لیے مغربی نہروں سے رابطہ نہریں ، ڈیم اور ہنڈ ورکس قائم کرنے کے لیے مالی امداد اور  مشرقی دریاؤں میں دس سال تک پانی کا بہاؤ شامل تھا ۔ نتیجتاً پاکستان نے دو ڈیم (تربیلا اور منگلا) ، پانچ ہیڈ ورکس اور دریاؤں کے درمیان 400 کلومیٹر لمبی کئی  رابطہ نہریں تعمیر کیں ۔ جبکہ کالاباغ ڈیم کا منصوبہ متنازعہ ہونے کی وجہ سے التوا کا شکار رہا ۔

مختلف حکومتوں کے دور میں کالاباغ ڈیم کا منصوبہ
ایوب خان نے کالاباغ ڈیم پر کام شروع  کرنا چاہا لیکن منصوبے پر عملی کام نہ ہوسکا ۔ یحییٰ خان کے دور حکموت (1969 تا 1971) میں ملک کے سیاسی حالات ڈیم جیسے بڑے منصوبوں کو شروع کرنے کے  لیے سازگار نہیں تھے ۔ ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں چونکہ منگلہ اور تربیلا ڈیم مکمل ہوچکے تھے اس لیے اس وقت ملک میں بجلی کی پیداوار ضرورت کے مقابلے میں وافر مقدار میں تھی جبکہ نئے تعمیر شدہ ڈیموں سے زرعی پانی کی کمی کو پورا کیا جارہا تھا ۔ بھٹو حکومت کی توجہ نئے آئین کے تحت  قومی اداروں کے قیام اور ان کے استحکام پر رہی ۔

1983  کے بعد
فوجی حکمران جنرل ضیاء الحق نے 1983 میں کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا فیصلہ کیا ۔  ابتدائی امور  نپٹانے کے بعد اگلے سال ڈیم پر عملی کام آغاز ہوا اور 1987 تک اس کا تفصیلی سروے مکمل ہوا  اور  بنیادی امور جیسے رہائشی عمارات ، لیبارٹریاں اور ٹنل کی تعمیر کی گئی ۔ ابتدائی سروے رپورٹ میں اس ڈیم کی سطح سمندر سے اونچائی  1000 فٹ تھی ۔ بعد میں خیبر پختونخوا حکومت اور عوام کے اسرار پر (ضلع نوشہرہ کے ڈوبنے کے  خطرے کے پیش نظر ) اس کی اونچائی کم کرکے 915 فٹ کردی گئی ۔ شدید سیاسی اختلافات کی وجہ سے ڈیم کے سائٹ پر 1989 سے کام بند کردیا گیا ۔ ضیاءالق کی حکومت کے بعد اگلے گیارہ سالوں میں  پاکستان میں دو دفعہ پیپلز پارٹی اوردو دفعہ  مسلم لیگ ن کی جمہوری حکومتیں رہیں ۔ لیکن پاکستان پیپلز پارٹی نے سندھ کے عوام میں مقبول جماعت ہونے کی وجہ سے کبھی اس ڈیم کی تعمیر کا نہیں سوچا ۔  البتہ میاں نواز شریف نے اپنے دوسرے دور حکومت (1997 تا 1999) میں  کالاباغ ڈیم بنانے کا اعلان کیا مگر  بات اعلان سے  آگے نہ بڑھ سکی ۔
پانی کی تقسیم کا  معاہدہ  1991
1991 میں نواز شریف کے دورحکومت  میں صوبوں کے درمیان نہری  پانی کی تقسیم کا معاہدہ ہوا ۔    اس معاہدے کے تحت نہروں کے پانی کے استعمال کو تحفظ فراہم کیا گیا اور دریاؤں کے پانی  (جن میں سیلاب اور اضافی پانی بھی شامل ہے ) کی متوازن تقسیم کا نظام قائم کیا گیا ۔  1992  میں صوبوں کے درمیان پانی کی تقسیم کے معاہدے پر عمل درآمد کے لیے  خود مختار ادارہ  انڈس ریور سسٹم اتھارٹی (ارسا) قایم کیا گیا ۔   بدقسمتی سے  معاہدے کے  کچھ ہی عرصے بعد سندھ اور پنجاب میں پانی کی تقسیم پر پھر اختلافات پیدا ہوگئے ۔
2000ء  کے  بعد
پرویز مشرف نے 2004 میں کالاباغ ڈیم کے تعمیر کی بات کی مگر چھوٹے صوبوں کی طرف سے شدید اختلافات کی وجہ سے پیشرفت نہ ہوسکی ۔ 2008 میں اُس وقت کے  وفاقی وزیر برائے پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف (پیپلز پارٹی) نے اختلاف رائے کے پیش نظر کالاباغ ڈیم نہ بنانے کا اعلان کردیا مگر 2010 کے سیلاب کی تباہ کاریوں نے کالاباغ ڈیم کی بحث ایک مرتبہ پھر تازہ کردی اور سیلاب کے نقصانات سے بچنے کے لیے کالاباغ ڈیم کی اہمیت کے حق اور مخالفت میں بیانات آنے شروع ہوئے ۔
نوشہرہ ، خیبر پختونخوا 30 جولائی 2010  ۔۔  2010 کے سیلاب کے دوران

2013  میں انتخابی مہم کے دوران مسلم لیگ ن کے رہنماؤں نے حکومت میں آکر کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے وعدے کئے ۔  لیکن حکومت کے قیام کے بعد میاں نواز شریف کی سوچ تبدیل ہوگئی  اور پچھلے سالوں کی طرح اس سال (جون 2015) میں منظور ہونے والے بجٹ میں  بھی کالاباغ منصوبے کو اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے  نظر انداز کردیا گیا  جبکہ پانی و بجلی کے دیگر منصوبوں کے لیے خطیر رقوم مختص کی گئی ہیں ۔ موجودہ وقت (جون  2015 ) میں صرف مسلم لیگ ق کے رہنما کالاباغ ڈیم کی حمایت میں مہم چلارہے ہیں ۔ مختلف جمہوری ادوار میں خیبر پختونخوا ، سندھ اور بلوچستان کی صوبائی اسمبلیاں کالا باغ ڈیم کی مخلافت میں کئی بار قراردادیں منظور کرچکی ہیں جبکہ پنجاب اسمبلی نے ڈیم کے حق میں قرارداد منظور کی ہے ۔
عدالتی  کاوشیں  
گزشتہ دور حکومت میں   کالاباغ  ڈیم کی تعمیر کے لیے عدلیہ  کا سہارا  بھی  لیا جا چکا ہے تاکہ فنی اور سیاسی اختلافات  کو عدلیہ کی احکامات کے ذریعے حل کرنے  کی کوشش کی جائے ۔  نومبر 2012  میں لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے دائر کی گئی چھ درخواستوں پر فیصلہ سناتے ہوئے کہا کہ 1991 میں مشترکہ مفادات کونسل کی سفارش کی بنا پر وفاقی حکومت کالاباغ ڈیم کی تعمیر کی پابند ہے ۔  2014 میں لاہور ہائی کورٹ میں عدالت عالیہ کے احکامات کے باوجود کالاباغ ڈیم کی عدم تعمیر پر وزریراعظم اور چاروں وزرائے اعلیٰ کے خلاف توہیں عدالت کی درخواست بھی  دائر کی گئی ۔   جنوری 2015 میں سپریم کورٹ نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق دائر  درخواست مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ڈیم کی تعمیر کا حکم دینا  عدالت کا کام نہیں  بلکہ  حکومت کا کام ہے ۔
آئین اور بڑے ڈیموں کی تعمیر
اٹھارویں آئینی  ترمیم (منظور شدہ اپریل 2010) کے بعد آئین کے  آرٹیکل 157 کے تحت وفاقی حکومت کسی بھی صوبے میں پن بجلی کے پاور سٹیشن کی  تعمیر کا فیصلہ کرنے سے قبل متعلقہ صوبائی حکومت سے مشاورت  کرے گی ۔ مزید کہا گیا کہ وفاقی اور صوبائی حکومت کے درمیان تنازعہ کی صورت میں مشترکہ مفادات کونسل تنازعہ کا تصفیہ کرے گی ۔
حرف آخر
 پاکستانی قوم 1953 سے کالاباغ ڈیم  پر موجود اختلافات کے خاتمے کی منتظر ہے ۔ واضح رہے کہ سندھ ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان میں کالاباغ ڈیم کے حوالے سے کافی تحفظات پائے جاتے ہیں اور  تینوں صوبوں  کی اسمبلیاں بھی کالاباغ ڈیم کی تعمیر کے خلاف قرادادیں منظور کرا چکی ہیں ۔  جبکہ  پنجاب اسمبلی نے وفاقی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کالاباغ ڈیم کی فوری تعمیر کے لیے چاروں صوبوں کے درمیان اتفاق رائے پیدا کرے کیونکہ کالا باغ ڈیم کا منصوبہ ناصرف قابل عمل ہے بلکہ ملک کے مفاد میں بھی ہے ۔
جاری ہے ۔ 


Sunday, 7 June 2015

کالا باغ ڈیم (حصہ اول ) تعارف ۔۔ Kalabagh Dam (P I) Introduction (Urdu)

کالاباغ ڈیم یا کالاباغ بند حکومتِ پاکستان کا پانی کو ذخیرہ کرکے بجلی کی پیداوار اور زرعی زمینوں کو سیراب کرنے کا ایک بڑا منصوبہ ہے ۔ کالاباغ ڈیم کا منصوبہ روز اول سے  ہی  متنازعہ ہونے کی وجہ سے تاحال  قابل عمل نہیں ہوسکا ہے ۔ پنجاب کے علاوہ پاکستان کے باقی صوبے اس ڈیم کی تعمیر کے شدید مخالف ہیں ۔  پاکستان اس وقت آبی بحران کے ساتھ ساتھ بجلی کے بحران کا بھی شکار ہے ۔ پاکستان میں منگلا اور تربیلا ڈیموں کی تعمیر کے 40 سے زائد سال مکمل ہوگئے ہیں اور اس عرصے میں ہماری پانی اور بجلی کی ضروریات کئی گنا بڑھ چکی ہیں ۔ ایسے حالات میں پاکستان کے لیے ایک بڑے ڈیم کی تعمیر نہایت ضروری ہے ۔ لیکن اشد ضرورت کے باوجود  بھی کالاباغ ڈیم کے حق میں رائے عامہ ہموار نہ ہوسکی ہے ۔ کالاباغ ڈیم کیا ہے ؟ اس کے حق اور مخالفت میں کیا دلائل دئے جاتے ہیں ؟ کالاباغ ڈیم جو ایک تکنیکی مسئلہ ہے ، آخر کیوں سیاست کا شکار ہوا ؟ خیبر پختونخوا ، سندھ اور بلوچستان کی صوبائی حکومتوں کا کیا مؤقف رہا ہے ؟ کیا مستقبل میں کالاباغ ڈیم پر عوامی رائے ہموار ہونے کے امکانات ہیں ؟  ان تمام سوالات کے جوابات اس سلسلہ وار بلاگ میں تلاش کئے جارہے ہیں  ۔ بلاگ کے اس پہلے تعارفی حصے میں کالاباغ ڈیم سے متعلقہ  اصطلاحات کی مختصر وضاحت کی گئی ہے ۔  

کالاباغ :
کالاباغ ایک قصبے (اور یونین کونسل) کا نام ہے جو ضلع میانوالی کی تحصیل عیسیٰ خیل میں واقع ہے اور  کالاباغ ڈیم کا مجوزہ مقام بھی ہے ۔  کالاباغ ڈیم کے منصوبے کا مقام میانوالی شہر سے 40 کلومیٹر شمال کی طرف واقع ہے ۔  کالاباغ دریائے سندھ کے مغربی کنارے پر واقع ہے ۔ پشتو زبان میں گاؤں یا ڈھوک کے لیے 'کلے' کا لفظ استعمال ہوتا ہے (کرک اور بنوں وغیرہ میں کلے کا تلفظ ' کلا'  ہے ) لہٰذا کالاباغ کا مطلب 'باغ گاؤں' ہے ۔ بہت سے لکھاری کالاباغ ڈیم پر لکھتے ہوئے اس کو' کالے باغ ' سے تعبیر کرتے ہیں جو 
کہ زیادہ مستند نظر نہیں آتا۔ 

 کالاباغ کی زیادہ تر آبادی خٹک ، نیازی اور اعوان قبائل پر مشتمل ہے ۔ کالاباغ محمود غزنوی کے زمانے سے ایک جاگیردارانہ ریاست رہی ہے ۔ اگرچہ انگریزوں نے کالاباغ کو شاہی ریاست کا درجہ نہیں دیا۔ ایوب خان دور حکومت میں زرعی اصلاحات کے تحت کالاباغ کے نواب نے اپنی جائیداد میں سے ایک بڑا رقبہ کمیشن کے سپرد کیا ۔ 1967 میں کالاباغ کے نواب ملک امیر محمد خان (گورنر مغربی پاکستان) کی وفات سے نواب کے خطاب کا خاتمہ بھی ہوا ۔ کالاباغ کا خطہ اپنے پڑوسی علاقوں کی طرح سطح مرتفع پوٹھوہار کی سرخ پہاڑیوں اور کوہستان نمک کے سلسلے پر مشتمل ہے ۔  
پاکستان

ڈیم ، بیراج  اور  ہیڈورکس:
ڈیم ( اردو زبان میں بند یا باند ) پانی کا وہ ذخیرہ ہوتا ہے جسے کے ذریعے  بہتے پانی کو روک کر ذخیرہ کیا جاتا  ہے تاکہ یہی پانی حسب منشاء استعمال میں لایا جاسکے ۔ ڈیم سیلاب کے تباہ کاریوں کو کم کرتا ہے ۔  ذخیرہ شدہ  پانی پھر ضرورت کے تحت آبپاشی اور دوسرے انسانی ضروریات کے لیے استعمال ہوتا ہے ۔ پانی کے تیز بہاؤ سے پن بجلی بھی پیدا ہوسکتی ہے ۔ بیراج سے  پانی کے بہاؤ کو روک کر اس کی سطح بلند کی جاتی ہے تاکہ پانی کے رُخ کو موڑ کر حسب ضرورت نہروں میں بہایا جاسکے ۔ ہیڈورکس بھی پانی کے بہاؤ کا رُخ موڑنے کے لیے تعمیر کیا جاتا ہے تاکہ دریا کا پانی نہر میں ضرورت کے حساب سے بہایا جاسکے ۔ تاہم ہیڈورکس تعمیر کے لحاظ سے بیراج سے چھوٹے پیمانے پر ہوتا ہے ۔

ضلع میانوالی :
 ضلع میانوالی صوبہ پنجاب کے شمال مغرب میں دریائے سندھ کے دونوں اطراف واقع ہے ۔  1901 میں شمال مغربی سرحدی صوبہ بناتے وقت میانوالی کا ضلع بنایا گیا اور اس کو ملتان ڈویژن (صوبہ پنجاب ) کا حصہ بنا دیا گیا ۔ ( یاد رہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ضلعوں اور ڈویژنوں کی تعداد بڑھتی گئی اورجب 2000ء میں تمام ڈویژن ختم کئے جارہے تھے تو اس وقت ضلع میانوالی سرگودھا ڈویژن کا حصہ تھا ) ۔  دریائے سندھ ضلع میانوالی میں شمال سے جنوب کی طرف بہتے ہوئے ضلع کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے ۔

انگریز دورِ حکومت سے پہلے میانوالی کے علاقے ضلع بنوں کا حصہ تھے ۔ 1901 میں میانوالی کو ضلع بنوں اور ڈیرہ اسمٰعیل خان ڈویژن سے کاٹ کر صوبہ پنجاب کا حصہ بنایا گیا ۔ قیام پاکستان کے بعد 1955 میں جب ون یونٹ سکیم کے تحت مغربی پاکستان کے تمام انتظامی یونٹوں کو اکھٹا کیا گیا اور چار صوبوں کی جگہ ایک صوبہ 'مغربی پاکستان'  قایم کیا گیا تو مغربی پاکستان کو 12 ڈویژنوں میں تقسیم کیا گیا اور میانوالی  کو ڈیرہ اسماعیل خان ڈویژن کا حصہ بنایا گیا۔  یہ سسٹم جون 1970 تک چلتا رہا ۔

ضلع میانوالی کا کل رقبہ 5840 مربع کلومیٹر ہے ۔  اس ضلع میں تین تحصیلیں میانوالی ، عیسیٰ خیل اور پپلاں ہیں ۔  مرکزی شہر  میانوالی کے علاوہ عیسیٰ خیل اس ضلع کا مشہور شہرہے ۔  سطح سمندر سے اوسط بلندی  200 میٹر یا 690 فٹ ہے ۔

میانوالی کے شمال میں اٹک  اور کوہاٹ ، جنوب میں بھکر  ، مشرق میں چھکوال اور خوشاب جبکہ مغرب میں ضلع کرک ، لکی مروت اور ڈیرہ اسمٰعیل خان واقع ہیں ۔ ضلع میانوالی کی تحصیل عیسیٰ خیل (جہاں کالاباغ واقع ہے ) صوبہ پنجاب کا خیبر پختونخوا سے متصلہ واحد علاقہ ہے جو دریائے سندھ کے مغرب کی طرف واقع ہے  ۔

دریائے سندھ :
دریائے سندھ پاکستان کا سب سے بڑا اور اہم دریا ہے ۔ یہ عظیم  دریا تبت سے شروع ہوکر شمال میں گلگت بلتستان کے راستے خیبر پختونخواہ میں سے گزرتا ہے  ۔ خیبر پختونخوا کا ہزارہ ڈویژن اس دریا کے مشرق کی طرف واقع ہے ، جبکہ صوبہ کے باقی تمام اضلاع دریائے سندھ کے مغرب کی طرف واقع ہیں ۔ دریائے سندھ خیبر پختونخوا کے پہاڑوں سے اُتر کر پنجاب اور سندھ کے میدانوں سے ہوتا ہوا پاکستان کے جنوب میں  ضلع حیدرآباد سے ہوتا ہوا ٹھٹہ کے قریب بحیرہ عرب میں شامل ہوجاتا ہے ۔

تربیلا  ڈیم
دریائے سندھ پر تربیلا (ضلر ہری پور، خیبر پختونخوا) کے مقام پر ایک بڑا ڈیم بنایا گیا ہے جو موجودہ وقت میں دریائے سندھ پر تعمیر شدہ واحد بڑا  ڈیم ہے ۔ اس کے علاوہ غازی بروتھا (غازی – بمقام تربیلا اور بروتھا— ممقام اٹک) جاری پانی کا   پراجیکٹ بھی دریائے سندھ پر واقع ہے ۔ خیبر پختونخوا میں ضلع مانسہرہ میں اسی دریا پر الائی خوڑ ، شانگلہ میں خان خوڑ اور کوہستان میں ڈوبڑ خوڑ  کے نام سے چھوٹے ڈیم بنا کر بجلی پیدا کی جارہی ہے ۔  

دریائے سندھ پر تعمیر شدہ بیراج اور ڈیم
دریائے سندھ پر کالاباغ کے قریب جناح بیراج تعمیر کیا گیا ہے ۔ جو آپباشی کے علاوہ 96 میگاواٹ بجلی بھی پیدا کرتا ہے ۔ چشمہ بیراج بھی اسی دریا پر میانوالی میں کالاباغ ہی کے قریب واقع ہے ۔ یہ بیراج پاکستان میں پا نی کا تیسرا بڑا ذخیرہ ہے ۔ اس  بیراج سے آبپاشی ، سیلابی پانی کو روکنے کے علاوہ 184 میگاواٹ بجلی بھی پیدا ہوتی ہے ۔ چشمہ ہی کے مقام پر دریائے سندھ پر ایک چھوٹے سے ڈیم کی بدولت قلیل مقدار میں بجلی پیدا کی جارہی ہے ۔ اس کے علاوہ دریائے سندھ پر تونسہ بیراج (ضلع مظفر گڑھ ، پنجاب) ، گدو بیراج (ضلع کشمور ، صوبہ سندھ ) ، سکھر بیراج (سکھر ، صوبہ سندھ) اور کوٹری بیراج (حیدرآباد ، صوبہ سندھ ) واقع ہیں ۔

اس کے علاوہ دریائے سندھ پر گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے مختلف مقامات پر کئی ایک چھوٹے بڑے ہائیڈل پراجیکٹ شروع کرائے گئے ہیں ۔

Thursday, 28 May 2015

کیا سیکولرازم کا مطلب لادینیت ہے ؟ What is the meaning of Secularism (Urdu)?

پاکستان میں  سیکولرازم کی اصطلاح کے معنی و مفہوم کوعموماً توڑ مروڑ کر پیش کیا جاتا ہے۔  چند لوگوں نے اپنے خیالات کی ترویج کے لیے سیکولرازم سے نفرت پیدا کرنے کی کوشش میں اس کو لا دینیت ، دہریت اور بداخلاقی کا سرچشمہ قرار دیا ہے جو کہ سراسر غلط ہے ۔   سیکولرازم کیلئے موزوں اُردو اصطلاح" فکر پسندی"ہوسکتی ہے ۔ سیکولرازم کی اصطلاح دراصل چرچ  یعنی مذہب اور ریاست یعنی سیاست کو الگ کرنے کیلئے استعمال کی جاتی ہے گویا سیکولرازم دراصل سیاست اور مذہب کے مابین تفریق کا نام ہے۔ 
سیکولر اور سیکولرازم خالص مغر بی اصطلاحیں ہیں۔ لاطینی زبان میں سیکولم کے لغوی معنی دنیا کے ہیں ۔ سیکولرازم کا مطلب   "ایسا سیاسی اور سماجی نظام ہے جس کی بنیادیں مذہب اور مابعد الطبیعیاتی نظریات کی بجائے عقل اور سائنسی اصولوں پر رکھی گئی ہوں"۔ نامور دانشور اور مصنف سبطِ حسن اپنی تصنیف 'نویدِ فکر'  میں سیکولرازم کی تاریخ پر روشنی ڈالتے ہوئے لکھتے ہیں ’’قرونِ وسطیٰ میں رومن کتھولک پادری دو گروہوں میں بٹے ہوئے تھے، ایک وہ پادری جو کلیساکے ضابطوں کے تحت خانقاہوں میں رہتے تھے۔ دوسرے وہ پادری جو عام شہریوں کی سی زندگی بسر کرتے تھے کلیسا کی اصطلاح میں آخرالذکر کو سیکولرپادری کہا جاتا تھاوہ تمام ادارے بھی سیکولر کہلاتے تھے جو کلیسا کے ماتحت نہ تھے اور وہ جائیداد بھی جسے کلیسا فروخت کر دیتا تھا۔ آج کل سیکولرازم سے مراد ریاستی سیاست یا نظم ونسق کی مذہب یا کلیسا سے علیحدگی ہے‘‘ (صفحہ69)۔
سیکولرازم سے مراد ریاستی معاملات کی مذہب یا کلیسا سے علیحدگی ہے نہ کہ مذہب کی نفی ہے ۔ سیکولرازم نہ تو کوئی مذہبی عقیدہ ہے اور نہ لادینیت کا نام ہے بلکہ ایک معاشرتی فلسفہ ہے جس کا مقصد مذہب کے بارے میں غیر جانبدارانہ پالیسی اختیار کرنا ہے ۔ جس کے تحت ہر انسان کو اپنی سوچ ، عقیدے ، مذہب یا لادینیت کے کے تحت زندگی گزارنے کا حق حاصل ہوتا ہے ۔ دوسروں کے عقیدے یا سوچ پر دباؤ نہیں ڈالا جاتا ہے ۔ سیکولرازم ایک عملی تدبیر ہے اس کا مقصد یہ ہے کہ مذہبی نزاع سے بچتے ہوئے سیاسی اور اقتصادی امور میں مشترک بنیاد پر ملک کانظام چلا یاجائے۔
 تاریخی اعتبار سے سیکولرازم کی  سوچ یورپ میں عام آدمی کی زندگی میں چرچ کی بے جا مداخلت کے رد عمل کے طور پر ابھری ۔  اگرچہ سیکولر نظام کی بنیادیں انتہائی قدیم ہیں، لیکن سیکولر اور سیکولرازم کی اصطلاح پہلی مرتبہ 19ویں صدی کے ایک انگریز مفکر اور دانشور'ارج جیکب ہولی اوک'  نے وضع کی ۔  اوک کا موقف تھا :
1۔ انسان کی سچی رہنما سائنس ہے۔
 2۔ اخلاق مذہب سے جدا ایک قدیم حقیقت ہے۔
 3۔ علم وادراک کی واحد کسوٹی اور سند عقل ہے ۔
 4۔ ہر شخص کو فکر اور تقریر کی آزادی ملنی چاہیے۔
 5۔ ہم سب کو دنیا کو بہتر بنانے کی کوشش کرنی چاہیے۔
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ سیکولرازم کو معاشرتی نظام کے لیے درست سمجھنے سے ایک  دین دار انسان بے دین اور خدا پرست آدمی  دہریہ نہیں ہوجاتا ۔ سیکولرازم کا مقصد معاشرے کی صحت مند سماجی اور اخلاقی قدروں کو پامال کرنا نہیں ہے بلکہ سیکولرازم ایک فلسفہ حیات ہے جو خرد مندی اور شخصی آزادی کی تعلیم دیتا ہے اور تقلید وروایت پرستی کی بجائے عقل و علم کی اجتہادی قوتوں کی حوصلہ افزائی کرتا ہے کہ انسان کو توہمات کے جال سے  باہر نکالا جائے ۔ اس کے تحت مذہب کو چرچ کی حدود اور انسان کی ذات تک محدود قرار دیا گیا۔ مزید برآں سیکولرازم مذہب کی نفی نہیں کرتا بلکہ یہ کسی بھی فرد کے مذہب پر عمل کے حق کا تحفظ کرتا ہے، جب تک کہ وہ اس اظہار کو مذہبی عبادات کے لیے مخصوص مقامات تک محدود رکھے یا اپنے گھر میں عمل کرے اور جب تک اُس کے مذہبی عقائد اور نظریات دوسرے لوگوں کے نقصان نہیں پہنچاتے یا تشدد وفساد کا باعث نہیں بنتے، سیکولرازم کو اس پر کوئی اعتراض نہیں ہے۔ مغربی سیکولرازم معاشرتی زندگی کے معاملات میں مذہب کے کردار کو بھی تسلیم کرتا ہے مگر یہ اس کردار کو سیاسی شکل دینے کی اجازت نہیں دیتا کیونکہ اس کے مطابق ایسا کرنے سے جدید سائنسی ، معاشی اور منطقی نظریات متاثر ہوتے ہیں۔ یہ وہ سیکولرازم ہے جس پر  مغربی ممالک عمل پیرا ہیں۔ سیکولرازم کی بنیاد اس کلئے پر قائم ہے کہ ضمیر و فکر اور اظہار رائے کی آزادی انسان کا پیدائشی حق ہے ۔
ڈاکٹر مولوی عبدالحق کی انگلش اردو ڈکشنری کے مطابق سیکولرازم اس معاشرتی اور تعلیمی نظام کے کہتے ہیں جس کی اساس مذہب کے بجائے سائنس پر ہو اور جس میں ریاستی امور کی حد تک مذہب کی مداخلت کی گنجائس نہ ہو۔ مولانا وحید الدین خان’ مسائل اجتہاد‘ میں لکھتے ہیں ’’حقیقت یہ ہے سیکولرازم کوئی مذہبی عقیدہ نہیں اس کا مطلب لادینیت نہیں بلکہ مذہب کے بارے میں غیر جانبدارانہ پالیسی اختیار کرنا ہے یہ ایک عملی تدبیر ہے اسکا مقصد یہ ہے کہ مذہبی نزاع سے بچتے ہوئے سیاسی اور اقتصادی امور میں مشترک بنیاد پر ملک کانظام چلایاجائے ‘‘۔سیکولرازم یہ دعویٰ تو نہیں کرتا کہ اس دنیاوی خوشی کے علاوہ اور کوئی خوشی نہیں ہو سکتی، البتہ ایسا ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہےجہاں انسانی سوچ اور فکر آزاد ہو جس کی بناپر انسان مظاہرِ قدرت اور کائنات کی تخلیق اور یہاں موجود فطرت کے کرشمات پر غورو فکر کرکے اپنی زندگیوں کو بہتر بنانے کی کوشش کرے۔
جمہوریت اپنی فطرت میں ایک سیکولر نظامِ حکومت ہے ۔  اٹھارہویں اور انیسویں صدی عیسوی میں یورپ میں جمہوریت  کے فروغ نے آگے چل کر ساری دنیا میں مقبولیت حاصل کی ۔ جس طرح سیکولرازم حریت پسندی ،شخصی آزادی سوچنے سمجھنے کے لیے بہتر ماحول پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے اسی طرح جمہوریت بحیثیت سیاسی نظام سیکولر نظریات کی بنیاد پر ریاست اور معاشرے کے قیام کے لیے کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ جمہوریت کی کامیابی کے لیے بھی ایک سیکولر معاشرے، آئین اور سیاسی ثقافت لازم ہیں۔
دوسری طرف مسلم اکثریتی ریاستوں میں سیکولر نظریات فروع نہیں پائے یہی وجہ ہے کہ 57 اسلامی ممالک کے عوام جمہوریت کو ترس رہے ہیں ۔ تقریباً سبھی مسلم ممالک خاندانی بادشاہتوں ، عسکری اور مذہبی آمریتوں یا غیر مستحکم جمہوری حکومتوں کے ماتحت ہیں یا پھر جمہوریت کے نام پر چند خاندانوں کی سیاسی اجارہ داری کے اسیر ہیں ۔ مسلم ممالک میں سیکولرازم کے غیر مقبول ہونے کے باعث جمہوری اقدار پروان نہیں چڑھ پائیں اور فکری سطح پر مسلم آبادی پسماندگی کا شکار ہے۔ پاکستان سمیت تمام مسلم ممالک کو ترقی کے لیے محدود مذہبی جمہوریت یا موروثی بادشاہتوں کی جگہ مکمل سیکولر جمہوریت رائج کرنا ہوگی۔

سیکولر سٹیٹ

ایسی ریاست یا مملکت جہاں مذہب (چرچ) سیاست (ریاست) سے جُدا ہو۔  اور ریاست کی پالیسیوں پر مذہب کا براہ راست دخل انداز ہونا خارج از امکان ہو۔ سیکولر  ریاست کا کوئی سرکاری مذہب نہیں ہوتا۔ اس کے آئین کی رُو سے تمام مذاہب کو مساوی درجہ حاصل ہوتا ہے اور کسی خاص مذہب کے ماننے والوں  سے ترجیحی یا امتیازی سلوک نہیں کیا جاتا۔ سیکولر سٹیٹ کا مقصد ملک میں مختلف مذاہب کے درمیان چپقلش کو ختم کرنا اور ان کے پیروؤں میں قومی یکجہتی پیدا کرنا ہے۔ سیکولر سٹیٹ کے لیے اُردو میں "لادینی ریاست" کی ترکیب مستعمل ہے ، لیکن یہ اس کا صحیح مترادف نہیں ہے۔بلکہ اس کا  صحیح مترادف  صُلح کُل بنتا ہے  ۔
سیکولرازم یعنی جمہوریت اور مساوات، آئینی اور نمائندہ حکومت ، فکر و ضمیر کی آزادی ، سائنسی سوچ اور شہری حقوق کی جدوجہد جاگیریت اور سرمایہ داری کے درمیان نظریاتی جنگ ہی کی مختلف شکلیں تھیں۔ اس جنگ میں ملوکیت کے علم برداروں کی طرح کلیسا نے بھی ظلم و استبداد کا ساتھ دیا اور ہر روشن خیال ، خرد افروز اور ترقی پنسد تحریک کی شدت سے مخالفت کی مگر تاریخ کے دھارے کو نہ ملوکیت روک سکی اور نہ کلیسائیت۔ انقلاب فرانس نے جاگیری نظام کے تینوں ستون یعنی ملوکیت ، نوابیت اور کلیسا گرادیے ۔ یورپ میں اگلے ایک صدی کے عرصہ میں معاشرے اور ریاست کی تشکیل سیکولر خطوط پر ہوئی۔  انقلاب فرانس (1789) کی وجہ سے سیکولر اداروں اور فکروں کے اثرات یورپ اور ایشیا میں نمایاں ہوئے۔ اس کے باعث یورپ میں ملوکیت ، فیوڈل ازم اور کلیسا کی بالادستی ہمیشہ کے لیے ختم ہوگئی اور دنیا سرمایہ داری نظام کے عہد میں داخل ہوگئی۔وہ حقوق جو سیکولرازم کی جان ہیں : مثلاً تحریر و تقریر کی آزادی ، ضمیر و فکر کی آزادی ، پریس کی آزادی ، تنظیمیں بنانے کی آزادی اور اختلافِ رائے کی آزادی ، ورنہ جاگیری دور میں تو کسی نے ان حقوق کا نام بھی نہ سنا تھا۔  سیکولرازم کے رواج پانے سے کلیسا کی قائم کی ہوئی خوف و دہشت کی فضا ختم ہوگئی ۔ ہر شخص کو پہلی بار اس بات کا موقع ملا کہ وہ دوسرے مسائل کی مانن مذہبی مسائل پر بھی بلا خوف و خطر غور کرے اور جو عقائد و روسوم خلافِ عقل نظر آئیں ان کو رد کردے۔ 
تاریخی اعتبار سے امریکہ عہد جدید کی پہلی سیکولر ریاست ہے ۔ امریکہ کا نیا آئین جو 1788 میں منظور ہوا ، خالص سیکولر آئین ہے ۔ جس کے مطابق ریاست کے کسی عہدے کے لیے مذہب کی کوئی شرط نہیں اور امریکی کانگریس (پارلیمنٹ) مذہب کے قیام یا مذہب کی آزادی پر پابندی کے سلسلے میں کوئی قانون منظور نہیں کرے گی۔ امریکی آئین کے تحت پارلیمنٹ مذہب کے قیام یا مذہبی رسوم کے متعلق کوئی قانون وضع نہیں کرسکتی۔ اس طرح آئین نے ریاست اور کلیسا کے درمیان ایک دیوار کھڑی کردی ہے۔"  امریکہ کے علاوہ کئی ممالک سیکولر نظریات پر عمل پیرا ہیں ۔  سیکولر ریاستوں میں چین  ، جاپان ،  روس ، فرانس ، اٹلی ، بھارت ، ترکی ، لبنان ۔ ازبکستان کے علاوہ کئی ریاستیں شامل ہیں۔  
سیکولر معاشرے کے ممتاز ادارے مندرجہ ذیل ہیں:
1 ۔ مقننہ ۔ جو آزاد اور غیر جانبدار الیکشن کے ذریعے وجود میں آئے۔
2-  عدلیہ ۔ جس کو مرکزی اور خودمختاری کا مرتبہ حاصل ہو۔
3۔ انتظامیہ ۔جو عدلیہ اور عدالتی حاکمیت کی اطاعت کرتی ہو۔
4۔ پریس ۔ جو رائے عامہ کے اظہار و تشکیل کا مقبول حربہ ہے ۔
سیکولر ریاست میں ہر  شخص بلا لحاظ مذہب مساوی درجے کا شہری ہوتا ہے۔ سیکولر ریاست کسی شہری کے مذہبی معاملات میں دخیل نہیں ہوتی نہ کسی کو مذہبی عقائد کی پابندی کرنے یا نہ کرنے پر مجبور کرتی ہے۔ سیکولر ریاست آئین طور پر کسی مذہب سے وابستہ بھی نہیں ہوتی نہ کسی مخصوص فرقے کے عقاید کو فروغ دیتی ہے۔
نوٹ: قارئین کو اس بلاگ میں تصحیح اور اختلاف کا مکمل اختیار حاصل ہے ۔